مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٤٠ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت عمر بن الخطاب وبيده عسيب تحل وهو يُجلِس الناس ويقول: اسمعوا (لقول) (١) خليفة رسول اللَّه ﷺ (٢)، قال: فجاء مولى لأبي بكر يقال (له) (٣) شديد (٤) بصحيفة، فقرأها على الناس فقال: يقول أبو بكر: اسمعوا وأطيعوا (لمن) (٥) في هذه الصحيفة، فو اللَّه ما (ألوتكم) (٦)، قال قيس: فرأيت عمر بن الخطاب بعد ذلك على المنبر (٧).حضرت قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی صاف شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ کی بات سُنو۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر کا غلام … جس کو شدید کہا جاتا تھا … ایک رقعہ لے کر آیا۔ اور وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے کہا۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں : اس آدمی کی بات سنو اور اطاعت کرو جس کا اس صحیفہ میں نام ہے۔ خدا کی قسم ! میں نے تمہیں خیر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قیس راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مں ا نے حضرت عمر بن خطاب کو منبر پر دیکھا۔