مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٣٩ - حدثنا وكيع وابن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن (زييد) (١) بن الحارث (أن) (٢) أبا بكر حين حضره الموت أرسل إلى عمر يستخلفه، فقال الناس: تستخلف علينا فظًا غليظًا، (ولو) (٣) قد ولينا كان أفظ وأغلظ، فما تقول لربك إذا لقيته وقد استخلفت علينا عمر، قال أبو بكر: أبربي تخوفونني، أقول: اللهم استخلفت عليهم خير (خلقك) (٤)، ثم أرسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن أنت حفظتها: إن للَّه حقا بالنهار لا يقبله بالليل، وإن للَّه حقا بالليل لا يقبله بالنهار، وأنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة؛ وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم (في الدنيا الحق وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الحق أن يكون ثقيلًا، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم) (٥) الباطل وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل أن يكون خفيفًا، وأن اللَّه ذكر أهل الجنة (وصالح) (٦) ما عملوا، (وأنه) (٧) تجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: (لا) (٨) أبلغ هؤلاء، وذكر أهل النار باسوء ما عملوا، (وأنه) (٩) رد عليهم صالح ما عملوا، ⦗١٥٢⦘ فيقول قائل: أنا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة وآية العذاب؛ ليكون المؤمن راغبا (راهبًا) (١٠)، لا يتمنى على اللَّه غير الحق ولا يلقي بيده إلى التهلكة، (فإن) (١١) أنت حفظت وصيتي لم يكن غائب أحب إليك من الموت، كان أنت ضيعت وصيتي لم يكن غائب أبغض إليك من الموت، (ولن) (١٢) تعجزه (١٣).حضرت زبید بن الحارث سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی مو ت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا ۔ اور حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا۔ اس پر لوگوں نے کہا۔ آپ ہم پر ایک ترش مزاج اور سخت آدمی کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے والی بن گئے تو وہ مزید ترش مزاج اور سخت آدمی ہوجائیں گے۔ پس جب آپ حضرت عمر کو ہم پر خلیفہ بنائیں گے تو آپ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیا تم لوگ میرے پروردگار سے مجھے ڈرا رہے ہو ؟ میں (اللہ تعالیٰ کو) یہ جواب دوں گا۔ اے اللہ ! میں نے لوگوں پر آپ کی مخلوق میں بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ ٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقینا دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لئے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ ٣۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔ ٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔