حدیث نمبر: 39838
٣٩٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد العزيز بن عبد اللَّه بن أبي سلمة عن عبد (الواحد) (١) بن أبي (عون) (٢) عن القاسم بن محمد عن عائشة أنها كانت تقول: توفي رسول اللَّه ﷺ فنزل بأبي بكر ما لو نزل بالجبال لهاضها، (اشرأب) (٣) (النفاق بالمدينة) (٤) وارتدت العرب، فو اللَّه ما اختلفوا في نقطة إلا طار (أبي) (٥) بحظها و (عنائها) (٦) في الإسلام، وكانت تقول مع هذا: ومن رأى عمر بن الخطاب عرف أنه (خلق غناء) (٧) للإسلام، كان واللَّه (أحوذيا) (٨) (نسيج) (٩) وحده قد أعد للأمور (أقرانها) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم ! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لئے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ ا س کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لئے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے ۔ اور انہوں نے معاملات کے لئے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ق، ع، هـ]: (الرحمن)، وانظر: مصادر التخريج.
(٢) في [ي]: (عرز).
(٣) في [أ، ب]: (شراب).
(٤) في [ي]: بياض.
(٥) في [أ، ب]: (أني)، وفي [ي]: بياض.
(٦) أي: مكانتها، وفي [س]: (غنائها)، وفي [هـ]: (فنائها).
(٧) في [ي]: بياض.
(٨) في [ب، ع]: (أحوزيًا)، وفي [ق]: (أجود).
(٩) في [أ]: (يسبح)، وفي [س]: (النسيج)، وفي [ي]: بياض.
(١٠) في [س]: (اقترابها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39838
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ الصواب أن عبد الواحد بن أبي عوف ثقة، أخرجه أحمد في الفضائل (٦٨)، والحارث (٩٦٦/ بغية)، والطبراني في الأوسط (٤٣١٨) وفي الصغير (١٠٥١)، وأبو نعيم في معرفة الصحابة (١٨٥)، والبيهقي ٨/ ٢٠٠ والمحاملي في الآمالي (١٠٤)، وابن عساكر ٣٠/ ٣١٢ والعسكري في تصحيفات المحدثين ١/ ٢٠٦، والبلاذري في فتوح البلدان ١/ ١٠٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39838، ترقيم محمد عوامة 38210)