مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عبد العزيز بن عبد اللَّه بن أبي سلمة عن عبد (الواحد) (١) بن أبي (عون) (٢) عن القاسم بن محمد عن عائشة أنها كانت تقول: توفي رسول اللَّه ﷺ فنزل بأبي بكر ما لو نزل بالجبال لهاضها، (اشرأب) (٣) (النفاق بالمدينة) (٤) وارتدت العرب، فو اللَّه ما اختلفوا في نقطة إلا طار (أبي) (٥) بحظها و (عنائها) (٦) في الإسلام، وكانت تقول مع هذا: ومن رأى عمر بن الخطاب عرف أنه (خلق غناء) (٧) للإسلام، كان واللَّه (أحوذيا) (٨) (نسيج) (٩) وحده قد أعد للأمور (أقرانها) (١٠) (١١).حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم ! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لئے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ ا س کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لئے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے ۔ اور انہوں نے معاملات کے لئے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔