مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان (بن) (١) حسين عن الزهري عن (عبيد اللَّه بن عبد اللَّه) (٢) بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٣) على عهد أبي بكر (أراد) (٤) أبو بكر أن يجاهدهم، فقال عمر (له) (٥): (أتقاتلهم) (٦) وقد سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من شهد أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه حرم ماله ودمه إلا بحقه وحسابه على اللَّه)، فقال (له) (٧) أبو بكر: أنا لا أقاتل من فرق بين الصلاة والزكاة؟ واللَّه لأقاتلن من فرق بينهما حتى أجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه، فكان واللَّه رشدًا، فلما ظفر بمن ظفر (به) (٨) منهم (قال) (٩): اختاروا بين خطتين: إما حرب مجلية؛ وإما الخطة المخزية، قالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها، فما الخطة المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وعلى قتلاكم أنهم في ⦗١٥٠⦘ النار ففعلوا (١٠).حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا ۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ : ” جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے “ ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے ؟ خدا کی قسم ! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم ! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا : تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چناچہ انہوں نے یہی کام کیا۔