مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٣٦ - حدثنا ابن نمير عن عبد الملك بن (سلع) (١) عن عبد خير قال: سمعت عليا يقول: قبض رسول اللَّه ﷺ على خير ما قبض عليه نبي من الأنبياء، (وأثنى عليه ﷺ) (٢)، قال: ثم استخلف أبو بكر فعمل بعمل رسول اللَّه ﷺ (٣) (وبسنته) (٤)، ثم قبض أبو بكر على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد (نبيها) (٥) ﷺ (٦)، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسنتهما ثم ⦗١٤٩⦘ قبض على خير ما قبض عليه أحد، وكان خير هذه الأمة بعد (نبيها) (٧) ﷺ (٨) وبعد أبي بكر (٩).حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بہترین حالت میں موت آئی جس بہترین حالت پر انبیاء کرام کو موت آتی ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف بیان کی۔ (پھر) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق کام کیا۔ پھر حضرت ابوبکر کی موت بھی اس بہترین حالت میں آئی جس پر کسی آدمی کی بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت ابوبکر اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔ پھر حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا چناچہ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر کے عمل اور سنت کے مطابق عمل کیا پھر ان کو بھی اس بہترین حالت میں موت آئی جس پر کسی بھی آدمی کو بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت عمر اس امت میں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔