مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٢٧ - حدثنا محمد بن بشر (حدثنا) (١) عبيد اللَّه بن عمر (حدثنا) (٢) زيد بن أسلم عن أبيه أسلم أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول اللَّه ﷺ كان علي والزبير (يدخلان) (٣) على فاطمة بنت رسول اللَّه ﷺ فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: يا بنت رسول اللَّه ﷺ (٤) واللَّه ما من (الخلق) (٥) (أحد) (٦) أحب إلينا من أبيك، وما من أحد ⦗١٤٤⦘ (أحب) (٧) إلينا بعد أبيك منك، وأيم اللَّه ما ذاك (بمانعي) (٨) أن أجتمع هؤلاء النفر عندك؛ أن أمرتهم أن يحرق عليهم (البيت) (٩)، قال: فلما خرج عمر جاؤوها (فقالت) (١٠): تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف (باللَّه) (١١) لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت، وأيم اللَّه (ليمضين) (١٢) لما حلف عليه، فانصرفوا راشدين، فرءوا رأيكم ولا ترجعوا إليَّ، فانصرفوا عنها (فلم) (١٣) (يرجعوا) (١٤) إليها حتى بايعوا لأبي بكر (١٥).حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی ! خدا کی قسم ! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم ! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انہوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چناچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔