حدیث نمبر: 39826
٣٩٨٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: لما قبض رسول اللَّه ﷺ قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير، قال: فأتاهم عمر فقال: يا (معاشر) (١) الأنصار! ألستم تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ أمر أبا بكر أن (يصلي) (٢) بالناس؟ قالوا: بلى، قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر، (قالوا) (٣): نعوذ باللَّه أن نتقدم أبا بكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی روح مبارکہ) قبض ہوئی تو انصار نے کہا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہانِ انصار ! کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ؟ انصار نے کہا۔ کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا۔ پھر تم میں سے کس کا دل اس بات پر خوش ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ع]: (معشر).
(٢) في [س]: (تصلي).
(٣) في [هـ]: (فقالوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39826
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية عاصم عن زر ضعيفة، أخرجه أحمد (٣٧٦٥)، والحاكم ٣/ ٦٧، والنسائي ٢/ ٧٤، وابن سعد ٣/ ١٧٨، والفسوي ١/ ٤٥٤، والبيهقي ٨/ ١٥٢، وابن أبي عاصم في السنة (١١٥٩)، والضياء (٢٢٩)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٢/ ١٢٨، والخطابي في الغريب ٢/ ١٢٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39826، ترقيم محمد عوامة 38199)