مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٢٦ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن زر عن عبد اللَّه قال: لما قبض رسول اللَّه ﷺ قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير، قال: فأتاهم عمر فقال: يا (معاشر) (١) الأنصار! ألستم تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ أمر أبا بكر أن (يصلي) (٢) بالناس؟ قالوا: بلى، قال: فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر، (قالوا) (٣): نعوذ باللَّه أن نتقدم أبا بكر (٤).حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی روح مبارکہ) قبض ہوئی تو انصار نے کہا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہانِ انصار ! کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ؟ انصار نے کہا۔ کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا۔ پھر تم میں سے کس کا دل اس بات پر خوش ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔