مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة أبي بكر (وسيرته) في الردة باب: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
٣٩٨٢٥ - حدثنا عبد (الأعلى) (١) عن ابن إسحاق عن (عبد اللَّه) (٢) بن أبي بكر ⦗١٣٩⦘ عن (الزهري) (٣) عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه (بن عتبة) (٤) عن ابن عباس قال: كنت (أختلف إلى عبد الرحمن) (٥) بن عوف (ونحن بمنى) (٦) مع عمر (بن الخطاب) (٧)، أعلم عبد الرحمن بن عوف القرآن، فأتيته في المنزل فلم أجده فقيل: هو عند أمير المؤمنين، فانتظرته حتى جاء فقال لي: قد (غضب) (٨) هذا اليوم غضبًا (٩) ما رأيته (غضب) (١٠) مثله منذ كان، قال: قلت: لم ذاك؟ قال: بلغه أن رجلين من الأنصار ذكرا بيعة أبي بكر فقالا: واللَّه ما كانت إلا فلتة، فما يمنع امرءا إن هلك هذا أن يقوم إلى من (يحب) (١١) فيضرب على يده فتكون كما كانت. قال: فهم عمر أن يكلم الناس، قال: فقلت: لا تفعل يا أمير المؤمنين، فإنك ببلد قد اجتمعت إليه (أفناء) (١٢) العرب كلها، وإنك إن قلت مقالة حملت عنك وانتشرت في الأرض كلها، فلم تدر ما يكون في ذلك، وإنما يعينك من قد عرفت أنه سيصير إلى المدينة. فلما قدمنا المدينة رحت (مهجرا) (١٣) حتى أخذت (عضادة) (١٤) المنبر اليمنى، ⦗١٤٠⦘ وراح إلي سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل حتى جلس معي، (فقلت) (١٥): ليقولن هذا اليوم مقالة (ما قالها) (١٦) منذ استخلف، قال: وما عسى أن يقول؟ قلت: ستسمع (ذاك) (١٧). قال: فلما اجتمع الناس خرج عمر حتى جلس على المنبر ثم حمد اللَّه وأثنى عليه ثم ذكر رسول اللَّه ﷺ فصلى عليه ثم قال: إن اللَّه أبقى رسوله بين أظهرنا ينزل عليه الوحي من اللَّه يحل به ويحرم، ثم قبض اللَّه رسوله فرفع (معه) (١٨) ما شاء أن يرفع، وأبقى منه ما شاء أن يبقى، فتشبثنا ببعض، وفاتنا بعض. فكان مما كنا نقرأ (في) (١٩) القرآن: ﴿لا ترغبوا عن آبائكم، فإنه كفر بكم أن ترغبوا عن آبائكم﴾ ونزلت آية الرجم، فرجم النبي ﷺ ورجمنا معه، والذي نفس محمد بيده لقد حفظتها (وعلمتها) (٢٠) وعقلتها لولا أن يقال: كتب عمر في المصحف ما ليس فيه، لكتبتها بيدي كتابًا، والرجم على ثلاثة منازل: حمل بيّنٌ، أو اعتراف (من) (٢١) صاحبه، أو شهود عدل، كما أمر اللَّه. وقد بلغني أن رجالا يقولون في خلافة أبي بكر: إنها كانت فلتة ولعمري إن كانت كذلك، ولكن اللَّه أعطى خيرها (ووقى) (٢٢) شرها؛ (وأيكم) (٢٣) هذا الذي تنقطع إليه الأعناق كانقطاعها إلى أبي بكر. ⦗١٤١⦘ إنه كان من شأن الناس أن رسول اللَّه ﷺ توفي فأتينا فقيل لنا: إن الأنصار قد اجتمعت في بني ساعدة مع سعد بن عبادة يبايعونه، فقمت وقام أبو بكر وأبو عبيدة ابن الجراح نحوهم فزعين أن يحدثوا في الإسلام (فتقا) (٢٤)، فلقينا رجلان من الأنصار، (رجلا) (٢٥) صدقٍ: عويم بن ساعدة ومعن بن عدي، فقالا: أين تريدون؟ فقلنا: قومكم لما بلغنا من أمرهم، (فقالا) (٢٦): ارجعوا فإنكم لن تخالفوا، ولن يؤت شيء تكرهونه، فأبينا إلا أن نمضي، وأنا (أزوي) (٢٧) كلاما أريد أن أتكلم به. حتى انتهينا إلى القوم وإذا هم (عكر) (٢٨) هناك على سعد بن عبادة، وهو على سرير له مريض، فلما غشيناهم تكلموا فقالوا: يا معشر قريش! منا أمير ومنكم أمير، فقام (الحباب) (٢٩) بن المنذر فقال: أنا (جذيلها) (٣٠) المحكك وعذيقها (المرجب) (٣١)، إن شئتم واللَّه رددناها جذعة. فقال أبو بكر: على رسلكم، فذهبت لأتكلم فقال: (أنصت) (٣٢) يا عمر، فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: يا معشر الأنصار إنا واللَّه ما ننكر فضلكم ولا بلاءكم في الإسلام ولا حقكم الواجب علينا، (ولكنكم) (٣٣) قد عرفتم أن هذا الحي من قريش بمنزلة من العرب ليس بها غيرهم، وإن العرب لن تجتمع إلا على رجل منهم، ⦗١٤٢⦘ فنحن الأمراء وأنتم الوزراء، فاتقوا اللَّه ولا تصدعوا الإسلام، ولا تكونوا أول من أحدث في الإسلام، ألا وقد رضيت لكم أحد هذين الرجلين لي ولأبي عبيدة بن الجراح، فأيهما بايعتم فهو لكم ثقة. قال: فو اللَّه ما بقي شيء كنت أحب أن أقوله إلا وقد قاله يومئذ غير هذه الكلمة، فواللَّه لأن أُقتل ثم أحيا (ثم أقتل ثم أحيا) (٣٤) في غير معصية أحب إلي من أن أكون أميرا على قوم فيهم أبو بكر. قال: ثم قلت: يا معشر الأنصار! يا معشر المسلمين! إن أولى الناس بأمر رسول اللَّه ﷺ-من بعده ثاني اثنين إذ هما في الغار، أبو بكر السباق (المتين) (٣٥)، ثم أخذت بيده وبادرني (رجل من الأنصار) (٣٦) فضرب على (يده) (٣٧) قبل أن أضرب على يده، (ثم ضربت) (٣٨) على يده، [(وتتابع) (٣٩) الناس. وميل على سعد بن عبادة فقال: الناس] (٤٠) قتل سعد، فقلت: (اقتلوه) (٤١) قتله اللَّه، ثم انصرفنا وقد جمع اللَّه أمر المسلمين بأبي بكر، (فكانت) (٤٢) (لَعَمْرُ) (٤٣) اللَّه (فلتة) (٤٤) كما (قلتم) (٤٥) أعطى اللَّه خيرها ووقى شرها، فمن دعا إلى مثلها فهو ⦗١٤٣⦘ (الذي) (٤٦) لا بيعة له ولا لمن بايعه (٤٧).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمان بن عوف کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت) ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام منیٰ میں تھے۔ میں عبد الرحمان بن عوف کو قرآن پڑھا تا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انہیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس ہیں۔ چناچہ میں ان کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ وہ آگئے اور انہوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کیوں ؟ عبد الرحمن بن عوف نے جوا ب دیا۔ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کا ذکر کیا تو پھر ان دونوں نے کہا۔ بخدا ! ان کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔ ٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے ؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔ ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا : یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا ۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چناچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یا د کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں ۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔ ٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم ! اگر چہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لئے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لئے خم ہوگئیں تھیں۔ ٥۔ یقینا لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چناچہ میں، حضرت ابوبکر ، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے ۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انہوں نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا : تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر ) وہ کلام تیار کر رہا تھا جس کے ب