حدیث نمبر: 39824
٣٩٨٢٤ - حدثنا (١) غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت عبيد اللَّه ابن عبد (اللَّه) (٢) بن عتبة يحدث عن ابن عباس عن عبد الرحمن بن عوف (قال: حج عمر فأراد أن يخطب الناس خطبة، فقال عبد الرحمن بن عوف) (٣): إنه قد اجتمع عندك رعاع الناس وسفلتهم، فأخر ذلك حتى تأتي المدينة، قال: فلما قدمت المدينة دنوت قريبا من المنبر، فسمعته يقول: إني قد عرفت أناسًا يقولون: إن خلافة أبي بكر (فلتة) (٤) وإنما كانت (فلتة) (٥)، ولكن اللَّه وقى شرها، إنه لا خلافة إلا عن مشورة (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حج کیا اور آپ نے لوگوں کو ایک خطبہ دینے کا ارادہ کیا ۔ تو حضرت عبد الرحمان بن عوف نے عرض کیا۔ (اس وقت) آپ کے پاس معمولی درجہ کے اور متفرق مقامات کے لوگ جمع ہیں۔ لہٰذا آپ مدینہ آنے تک خطبہ کا ارادہ مؤخر کردیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب میں مدینہ پہنچا تو میں منبر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ اور میں نے حضرت عمر کو کہتے سنا۔ مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کی خلافت اچانک رونما ہوگئی تھی۔ واقعۃً وہ اچانک تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت کے شر (کے امکان کو) ختم فرما دیا (اور اب) یہ خلافت مشورہ سے ہی (باقی) ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: زيادة (أبو بكر عن).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ع]: (فلت).
(٥) في [ع]: (قلته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39824
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٥٢)، وأصله في البخاري (٦٨٢٩)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39824، ترقيم محمد عوامة 38197)