مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٢٢ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (٢) (حدثنا) (٣) داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: لما توفي رسول اللَّه ﷺ (٤) قام خطباء الأنصار، فجعل الرجل منهم يقول: يا معشر المهاجرين! إن رسول اللَّه ﷺ كان إذا استعمل رجلا منكم قرن معه رجلا منا، فنرى أن (يلي) (٥) هذا الأمر رجلان أحدهما منكم والآخر منا، قال: (فتتابعت) (٦) خطباء الأنصار على ذلك، فقام زيد بن ثابت فقال: إن رسول اللَّه ﷺ (٧) كان من المهاجرين (٨)، ونحن أنصاره كما كنا أنصار رسول اللَّه ﷺ (٩)، فقام أبو بكر فقال: جزاكم اللَّه خيرا يا معشر الأنصار وثبت قائلكم، ثم قال: واللَّه لو فعلتم غير ذلك لما صالحتكم (١٠).حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کے خطیب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہنا شروع کیا۔ اے جماعت مہاجرین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تم میں سے کسی کو عادل (امیر) مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے بھی ایک آدمی کو ملا دیتے۔ پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) بھی دو آدمیوں کو سونپ دیا جائے جن میں ایک تم سے ہو اور ایک ہم سے ہو۔ راوی کہتے ہیں : پس انصار کے بہت سے خطباء نے تسلسل سے یہ بات کہی ۔ تو اس پر حضرت زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور فرمایا : یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں سے تھے۔ لہٰذا امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا۔ اور اہم اس امام کے بھی اسی طرح مدد گار ہوں گے جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مددگار تھے۔ پھر حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے جماعت انصار ! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین بدلہ دے اور تمہارے قائل کو ثابت قدم رکھے پھر آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ (فیصلہ) کرتے تو ہم آپ سے مصالحت نہ کرتے۔