مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٢٠ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن موسى بن أبي عائشة قال: ⦗١٣٥⦘ حدثني (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن عتبة قال: أتيت عائشة فقلت: حدثيني عن مرض رسول اللَّه ﷺ (٢)، قالت: نعم، مرض رسول اللَّه ﷺ فثقل فأغمي عليه (٣) (فأفاق) (٤) (فقال) (٥): "ضعوا لي ماء في المخضب"، ففعلنا، قالت: فاغتسل (فذهب) (٦) (لينوء) (٧)، فأغمي عليه، (قالت) (٨): (ثم أفاق) (٩) فقال: "ضعوا لي ماء في المخضب (١٠) "، ففعلنا، قالت: فاغتسل (ثم ذهب) (١١) لينوء، فأغمي عليه، [(قالت) (١٢): ثم أفاق] (١٣) فقال: ["ضعوا لي ماء في المخضب"، قالت: (قلت: قد) (١٤) (فعلنا) (١٥)، قالت: فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه، ثم أفاق، فقال] (١٦): "أصلى الناس بعد؟ " فقلنا: لا يا رسول اللَّه هم ينتظرونك، قالت: ⦗١٣٦⦘ والناس عكوف ينتظرون رسول اللَّه ﷺ ليصلي بهم عشاء الآخرة، قالت: فاغتسل (رسول اللَّه ﷺ) (١٧)، ثم ذهب لينوء فأغمي عليه ثم أفاق فقال: "أصلى الناس بعد؟ " قلت: لا، فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى أبي بكر أن يصلي بالناس، قالت: فأتاه الرسول فقال (١٨): إن رسول اللَّه ﷺ (١٩) يأمرك أن تصلي بالناس، فقال: يا عمر صل بالناس، (قال) (٢٠): فقال: أنت أحق، إنما أرسل إليك رسول اللَّه ﷺ، قالت: فصلى بهم أبو بكر تلك (الأيام) (٢١)، ثم إن رسول اللَّه ﷺ (٢٢) وجد خفة من نفسه، فخرج لصلاة الظهر بين العباس ورجل آخر، فقال لهما: "أجلساني (عن يمينه) (٢٣) "، فلما سمع أبو بكر حسه ذهب يتأخر، فأمره أن يثبت مكانه، قالت: فأجلساه عن يمينه، فكان أبو بكر يصلي بصلاة رسول اللَّه ﷺ وهو جالس، والناس يصلون بصلاة أبي بكر (٢٤).حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا۔ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض کے بارے میں بیان کریں ۔ انہوں نے کہا : ہاں (بیان کرتا ہوں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو ۔ “ چناچہ ہم نے یہ حکم پورا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے لگے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو “۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ ہم نے یہ حکم پورا کردیا۔ فرماتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور اٹھنے لگے تھے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ ہم نے عرض کیا۔ نہیں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کررہے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ لوگ خوب جھک کر (متوجہ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائیں۔ ٢۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ! چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ حضرت ابوبکر کے پاس قاصدآیا اور آ کر کہا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے عمر ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عمر نے کہا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ ہی کی طر ف قاصد بھیجا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے ان دنوں میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عباس اور ایک اور آدمی کے درمیان نماز ظہر کے لئے باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا۔ مجھے ابوبکر کے دائیں طرف بٹھا دو ۔ پس جب حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسوس ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ چناچہ ان دونوں صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابوبکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔ پس حضرت ابوبکر ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر (کی اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے۔ ٤۔ روای کہتے ہیں : پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ؟ انہوں نے کہا۔ لاؤ۔ پس میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر پیش کی تو انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا مگر انہوں نے یہ کہا۔ کیا انہوں نے تمہیں بتایا کہ دوسرا آدمی کون تھا ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ نیں و ! انہوں نے فرمایا : یہ دوسرا آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔