مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨١٨ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن (أنيس) (١) بن أبي يحيى عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ يومًا ونحن في المسجد وهو عاصب ⦗١٣٤⦘ رأسه بخرقة في المرض الذي مات فيه، فأهوى قبل المنبر حتى استوى عليه فاتبعناه، (فقال) (٢): "والذي نفسي بيده إني لقائم على (الحوض) (٣) الساعة"، وقال: "إن عبدًا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الآخرة"، فلم يفطن (لها) (٤) أحد إلا أبو بكر، (فذرفت) (٥) عيناه فبكى (وقال) (٦): بأبي (٧) وأمي بل (نفديك) (٨) بآبائنا وأمهاتنا (وأنفسنا) (٩) وأموالنا، قال: (ثم هبط فما قام عليه حتى) (١٠) الساعة ﷺ (١١).حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں اپنے سر مبارک کو ایک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی جانب بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! بلاشبہ میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوں “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت کو پیش کیا گیا لیکن اس نے آخرت کو پسند کیا “۔ یہ بات حضرت ابوبکر کے سوا کوئی اور آدمی نہیں سمجھ سکا۔ چناچہ ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اور وہ رونے لگے۔ اور حضرت ابوبکر نے کہا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ بلکہ ہم تو آپ پر اپنے آبائ، امہات، جانیں اور اموال بھی فدا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لے آئے۔ پھر (اس کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر (موت تک دوبارہ) تشریف فرما نہیں ہوئے۔