مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨١٧ - حدثنا عبد العزيز بن أبان (عن سفيان) (١) عن معمر عن الزهري عن أنس (قال) (٢): لما قبض (رسول) (٣) اللَّه ﷺ بكى الناس، فقام عمر في المسجد خطيبًا، فقال: لا أسمع أحدا يزعم أن محمدًا قد مات، ولكن أرسل إليه ربُّه كما أرسل إلى موسى ربه، فقد أرسل اللَّه إلى موسى فلبث عن قومه أربعين ليلة، واللَّه إني لأرجو أن تقطع أيدي رجال وأرجلهم يزعمون أنه مات (٤).حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ رونے لگے۔ اس پر حضرت عمر مسجد میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کسی آدمی کے بارے میں نہ سنوں کہ اس کا یہ گمان ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ان کے پروردگار نے ایسی ہی حالت بھیجی ہے جیسا کہ موسیٰ کی طرف ان کے پروردگار نے بھیجی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف پیغام بھیجا تھا تو وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک (دور) ٹھہرے رہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تو اس بات کی پختہ امید ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں کٹ جائیں گے جن کا یہ خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موت واقع ہوگئی ہے۔