مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في (وفاة) النبي ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٠٤ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة عن ثابت (١) قال: لما قبض النبي ﷺ قال أبو بكر لعمر أو عمر لأبي بكر: انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها، ⦗١٣٠⦘ (فانطلقا) (٢) إليها فجعلت تبكي، فقالا لها: يا أم أيمن! إن ما عند اللَّه خير لرسول اللَّه ﷺ (٣)، فقالت: قد علمت أن ما عند اللَّه خير لرسول اللَّه ﷺ (٤)، (ولكني) (٥) أبكي على خبر السماء، انقطع عنا، فهيجتهما على البكاء؛ فجعلا يبكيان معها (٦).حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا یا حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ ہمارے ساتھ ام ایمن کے پاس چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں۔ پس ہم ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں۔ شیخین نے ام ایمن سے کہا۔ اے ام ایمن ! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے وہ بہتر ہے۔ اس پر ام ایمن نے کہا۔ یقینا مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زیادہ بہتر ہے لیکن میں تو اس بات پر رو رہی ہوں کہ ہم سے آسمان کی خبریں منقطع ہوگئیں۔ پس ام ایمن نے حضرت ابوبکر و عمر کو بھی رونے پر ابھار دیا چناچہ وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔