حدیث نمبر: 39803
٣٩٨٠٣ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: لما قبض النبي ﷺ جعلت أم أيمن تبكي؛ فقيل لها: لم (تبكين) (١) يا أم أيمن؟ قالت: أبكي على خبر السماء انقطع عنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک قبض ہوئی تو ام ایمن نے رونا شروع کیا۔ ان سے کہا گیا۔ اے ام ایمن ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمانی خبریں (اب) ہم پر منقطع ہوگئی ہیں۔

حواشی
(١) في [جـ]: (تبكي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39803
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني ٢٥/ (٢٢٧)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ٦٨ وابن عساكر ٤/ ٣٠٣، وابن سعد ٨/ ٢٢٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39803، ترقيم محمد عوامة 38181)