حدیث نمبر: 39800
٣٩٨٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس (بن) (١) أبي حازم عن جرير قال: كنت باليمن فلقيت رجلين من أهل اليمن ذا كلاع وذا عمرو، فجعلت (أحدثهما) (٢) عن رسول اللَّه ﷺ (فقالا) (٣): إن كان حقًا ما تقول فقد مر صاحبك على أجله منذ ثلاث، فأقبلت وأقبلا معي حتى إذا كنا في بعض الطريق (رُفع) (٤) لنا ركب من قبل المدينة، فسألناهم فقالوا: قبض رسول اللَّه ﷺ واستخلف أبو بكر والناس صالحون، قال: فقالا لي: أخبر صاحبك أنا قد جئنا، ولعلنا سنعود إن شاء اللَّه، ورجعا إلى اليمن، (قال) (٥): فأخبرت أبا بكر بحديثهم، قال: أفلا جئت بهم! قال: فلما كان بعد قال لي ذو عمرو: يا جرير إن بك علي كرامة، وإني مخبرك خبرا، إنكم معشر العرب (لن) (٦) (تزالوا) (٧) (بخير) (٨) ما كنتم إذا هلك أمير ⦗١٢٩⦘ تأمرتم في آخر، فإذا (كانت) (٩) بالسيف كانوا ملوكا يغضبون غضب الملوك ويرضون رضى الملوك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چناچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر ) کو بتادینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انہوں نے فرمایا : تم انہیں لے کر کیوں نہ آئے۔ ! ! ! راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر ! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں ۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔

حواشی
(١) في [س]: (عن).
(٢) في [ع]: (أحدثهم)، وفي [س]: (أخبرهما).
(٣) في [ع]: (فقال).
(٤) في [ق، هـ]: (وقع).
(٥) سقط من: [ع].
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ب]: (تنالوا).
(٨) في [أ، ب]: (الخير).
(٩) في [ع]: (كانوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39800
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عن طريق المؤلف: البخاري (٤٣٥٩)، وأحمد وابنه عبد اللَّه (١٩٢٤٤)، ويعقوب بن سفيان في المعرفة ٣/ ٢٩٠، وابن عساكر ١٧/ ٣٨٣، وابن البخاري في مشيخته ١/ ٣٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39800، ترقيم محمد عوامة 38178)