مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم) باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 39797
٣٩٧٩٧ - حدثنا (معتمر) (١) عن أبيه عن قتادة قال: قال رسول اللَّه ﷺ (لأسقف) (٢) نجران: "يا أبا الحارث أسلم"، فقال: إني مسلم، قال: "يا أبا الحارث أسلم"، قال: قد أسلمت قبلك، قال نبي اللَّه ﷺ (٣): "كذبت منعك من الإسلام ثلاثة: ادعاؤك للَّه ولدا، وأكللك الخنزير، وشربك الخمر" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے اسقف سے فرمایا۔ ” اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے جواب دیا۔ میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) فرمایا۔ اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے (دوبارہ) جواب میں کہا۔ تحقیق میں آپ سے پہلے ہی اسلام لے آیا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تو جھوٹ بولتا ہے۔ تجھے تین چیزوں نے اسلام سے روکا ہے۔ تمہارا خدا کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرنا۔ تمہارا خنزیر کھانا ۔ تمہارا شراب پینا۔
حواشی
(١) في [ق، هـ]: (معمر).
(٢) في [أ، ب]: (أشلق).
(٣) سقط من: [ع].