حدیث نمبر: 39796
٣٩٧٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن سماك عن علقمة بن وائل عن المغيرة ابن شعبة قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى نجران فقالوا (لي) (١): إنكم (تقرأون) (٢): ﴿يَاأُخْتَ هَارُونَ﴾ [مريم: ١٢٨] وبين (موسى وعيسى) (٣) ما شاء اللَّه من السنين؟ فلم أدر ما (أجيبهم) (٤) به، حتى رجعت إلى النبي ﷺ (فسألته) (٥) فقال: "ألا أخبرتهم أنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين من قبلهم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے ؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے “۔ ؟

حواشی
(١) في [أ، ب]: (إلا)، وفي [س]: (إلى).
(٢) في [ع]: (تقرون).
(٣) في [ع]: (عيسى وموسى).
(٤) في [س]: (أخيمهم).
(٥) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39796
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك وعلقمة صدوقان، أخرجه مسلم (٢١٣٥)، وأحمد (١٨٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39796، ترقيم محمد عوامة 38174)