مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم) باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
٣٩٧٩٦ - حدثنا ابن إدريس عن أبيه عن سماك عن علقمة بن وائل عن المغيرة ابن شعبة قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى نجران فقالوا (لي) (١): إنكم (تقرأون) (٢): ﴿يَاأُخْتَ هَارُونَ﴾ [مريم: ١٢٨] وبين (موسى وعيسى) (٣) ما شاء اللَّه من السنين؟ فلم أدر ما (أجيبهم) (٤) به، حتى رجعت إلى النبي ﷺ (فسألته) (٥) فقال: "ألا أخبرتهم أنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين من قبلهم" (٦).حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے ؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نے انہیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے “۔ ؟