حدیث نمبر: 39795
٣٩٧٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن حذيفة قال: أتى النبيَ ﷺ أسقفا نجران: العاقب والسيد، فقالا: ابعث معنا رجلا أمينا حق أمين، حق أمين، فقال: "لأبعثن معكم رجلا حق أمين"، فاستشرف لها أصحاب محمد (١)، قال: "قم يا أبا عبيدة بن الجراح"، فأرسله معهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے ا بو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔

حواشی
(١) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39795
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٤٥)، ومسلم (٢٤٢٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39795، ترقيم محمد عوامة 38173)