مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم) باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
٣٩٧٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن حذيفة قال: أتى النبيَ ﷺ أسقفا نجران: العاقب والسيد، فقالا: ابعث معنا رجلا أمينا حق أمين، حق أمين، فقال: "لأبعثن معكم رجلا حق أمين"، فاستشرف لها أصحاب محمد (١)، قال: "قم يا أبا عبيدة بن الجراح"، فأرسله معهم (٢).حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے ا بو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔