مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم) باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
٣٩٧٩٤ - حدثنا وكيع حدثنا الأعمش عن سالم قال: كان أهل نجران قد بلغوا أربعين ألفًا، قال: وكان عمر يخافهم أن يميلوا على المسلمين فتحاسدوا بينهم، قال: فأتوا عمر، فقالوا: إنا قد تحاسدنا بيننا فأَجْلنا، قال: وكان رسول اللَّه ﷺ قد كتب لهم كتابا أن لا يجلوا، قال: فاغتنمها عمر فأجلاهم فندموا فأتوه، فقالوا: أقلنا، فأبى أن يقيلهم، فلما قدم علي أتوه فقالوا: إنا نسألك بخط يمينك وشفاعتك عند نبيك (١) ألا أقلتنا، فأبى وقال: ويحكم، إن عمر كان رشيد الأمر، قال سالم: ⦗١٢٥⦘ فكانوا يرون أن عليًا لو كان طاعنا على عمر في شيء من أمره طعن عليه في أهل نجران (٢).حضرت سالم سے روایت ہے کہ اہل نجران کی تعداد (جب) چالسد ہزار کو پہنچ گئی … راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان سے اس بات کا خوف کرتے تھے کہ یہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوجائیں گے۔ تو (اتفاقاً ) ان میں باہم حسد پیدا ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ہم لوگوں میں باہم حسد پیدا ہوگیا ہے پس آپ ہمیں جلا وطن کردیں … راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لئے ایک تحریر لکھ دی تھی کہ انہیں جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے اس کو غنیمت سمجھا اور ان کو جلا وطن فرما دیا۔ اس کے بعد اہل نجران کو ندامت ہوئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہم اپنی بات سے معذرت کرتے ہیں ۔ حضرت عمر نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ہم آپ سے آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اور آپ کے نیو کی سفارش کے ذریعہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ہماری معذرت قبول کرلیں۔ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی انکار فرما دیا اور کہا۔ تم ہلاک ہو جاؤ۔ حضرت عمر تو ایک بصیرت والے شخص تھے۔ سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔