مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكروا) في أهل نجران وما أراد النبي ﷺ (بهم) باب: اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
٣٩٧٩٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد أن عمر أجلى أهل نجران اليهود والنصارى، واشترى بياض أرضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس إن هم جاءوا بالبقر والحديد من عندهم (١) فلهم الثلثان ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده (فله الشطر) (٢)، وعاملهم النخل على أن لهم الخمس ولعمر أربعة أخماس، وعاملهم الكرم على أن لهم الثلث ولعمر الثلثان (٣).حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران … یہودو نصاریٰ … کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے … اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔