حدیث نمبر: 39793
٣٩٧٩٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد أن عمر أجلى أهل نجران اليهود والنصارى، واشترى بياض أرضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس إن هم جاءوا بالبقر والحديد من عندهم (١) فلهم الثلثان ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده (فله الشطر) (٢)، وعاملهم النخل على أن لهم الخمس ولعمر أربعة أخماس، وعاملهم الكرم على أن لهم الثلث ولعمر الثلثان (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران … یہودو نصاریٰ … کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے … اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (منهم).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) منقطع؛ يحيى بن سعيد لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39793
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39793، ترقيم محمد عوامة 38171)