حدیث نمبر: 39785
٣٩٧٨٥ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) حميد عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ لما رجع من غزوة تبوك ودنا من المدينة قال: "إن بالمدينة لأقواما ما سرتم مسيرا، ولا قطعتم من واد إلا كانوا معكم فيه" قالوا: يا رسول اللَّه وهم بالمدينة؟ [قال: " (نعم) (٢)] (٣) (وهم بالمدينة) (٤) حبسهم العذر" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ تم نے جو بھی سفر کیا یا جو وادی بھی قطع مسافت کی تو وہ لوگ اس میں (ثواب کے اعتبار سے) تمہارے ساتھ شریک تھے۔ “ صحابہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ لوگ مدینہ میں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! وہ مدینہ میں تھے اور ان کو عذر نے (وہاں) روک رکھا تھا۔ “
حواشی
(١) في [أ، ع]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].