حدیث نمبر: 39784
٣٩٧٨٤ - حدثنا يزيد بن هارون (أخبرنا) (١) سعيد بن أبي عروبة عن موسى عن (الحسن) (٢) (أن) (٣) عثمان أتى رسول اللَّه ﷺ بدنانير في غزوة تبوك، فجعل رسول اللَّه ﷺ (يقلبها) (٤) في حجره (ويقول) (٥): "ما على عثمان بن عفان ما (عمل) (٦) بعد هذا" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ، غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دینار لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دیناروں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور ارشاد فرمایا۔ ” اس (خیر کے کام) کے بعد عثمان بن عفان جو کچھ بھی کرے اس کو نقصان نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) كذا في النسخ، وفي فضائل الصحابة لأحمد: (يونس) هو ابن عبيد.
(٣) في [أ، ب]: (عن).
(٤) في [أ، ب، ع]: (يقبلها).
(٥) في [ب]: (يقول).
(٦) سقط من: [أ، ب].