٣٩٧٨٢ - حدثنا خالد بن مخلد (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن عبد العزيز الأنصاري قال: حدثني ابن شهاب قال: حدثني عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن كعب بن مالك (٢) عن أبيه كعب قال: إن رسول اللَّه ﷺ لما همّ ببني الأصفر أن (يغزوهم) (٣) (جلّى) (٤) ⦗١١٢⦘ للناس أمرهم؟ وكان قل ما أراد غزوة إلا ورّى عنها بغيرها، حتى كانت (تلك) (٥) الغزوة، فاستقبل حرا شديدا وسفرا (بعيدًا) (٦) وعدوا (حديدًا) (٧)، فكشف للناس الوجه الذي (خرج) (٨) بهم إليه ليتأهبوا أهبة (عدوهم) (٩). فتجهز رسول اللَّه ﷺ وتجهز الناس معه، (وطفقت) (١٠) أغدو لأتجهز فأرجع ولم أقض شيئًا؛ حتى فرغ الناس وقيل: إن رسول اللَّه ﷺ غادٍ وخارج إلى وجهه، فقلت: (أتجهز) (١١) بعده (بيوم) (١٢) أو (يومين) (١٣) ثم أدركهم، وعندي راحلتان، ما اجتمعت عندي راحلتان (قط قبلهما) (١٤) فأنا قادر في نفسي، قوي بعدتي. فما زلت أغدو بعده وأرجع ولم أقض شيئا حتى أمعن القوم وأسرعوا، وطفقت أغدو للحديث، (وشغلني) (١٥) (الرجال) (١٦)، فأجمعت القعود حتى سبقني القوم، وطفقت أغدو فلا أرى ((الأسي) (١٧)، لا أرى) (١٨) إلا رجلًا ممن عذر اللَّه أو رجلا مغموصًا عليه في النفاق، فيحزنني ذلك، فطفقت أعد العذر ⦗١١٣⦘ لرسول اللَّه ﷺ إذا (جاء) (١٩) وأهيئ الكلام. وقدّر (برسول) (٢٠) اللَّه ﷺ أن لا يذكرني حتى نزل تبوك، فقال في الناس بتبوك وهو جالس: "ما فعل كعب بن مالك؟ " فقام إليه رجل من قومي فقال: شغله برداه والنظر في عطفيه، (قال) (٢١): فتكلم رجل آخر فقال: واللَّه -يا رسول اللَّه- إن علمنا (٢٢) إلا خيرًا، (فصمت) (٢٣) رسول اللَّه ﷺ. فلما قيل: إن رسول اللَّه ﷺ (قد أظل) (٢٤) قادمًا (زاغ) (٢٥) عني الباطل وما كنت أجمع من الكذب والعذر، وعرفت أنه لن ينجيني منه إلا الصدق، فأجمعت صدقه. وصبح رسول اللَّه ﷺ المدينة فقدم، فغدوت إليه فإذا هو في الناس جالس في المسجد، وكان إذا قدم من سفر دخل المسجد [(فركع) (٢٦) فيه ركعتين، ثم دخل على أهله فوجدته جالسًا في المسجد] (٢٧)، فلما نظر إلي دعاني فقال: "هلمَ يا كعبَ ما خلفك عني؟ " وتبسم تبسم المغضب قال: قلت: يا رسول اللَّه لا عذر لي، ما كنت قط أقوى ولا أيسر مني حين تخلفت عنك، وقد (جاءه) (٢٨) المتخلفون يحلفون فيقبل منهم ويستغفر لهم ويكل سرائرهم في ذلك إلى اللَّه ﷿، فلما صدقته قال: "أما هذا فقد صدق، فقم حتى يقضى اللَّه فيك ما هو قاض". ⦗١١٤⦘ فقمت فقام إليَّ رجال من بني سلمة فقالوا: واللَّه ما صنعت شيئًا، واللَّه (٢٩) (إن) (٣٠) كان (لكافيك) (٣١) من ذنبك الذي أذنبت استغفار رسول اللَّه ﷺ لك كما صنع (٣٢) ذلك (لغيرك) (٣٣)، (فقد) (٣٤) قبل منهم عذرهم واستغفر لهم، فما زالوا يلومونني حتى هممت أن أرجع فأكذب نفسي، ثم قلت لهم: هل قال هذه المقالةَ (أحدٌ) (٣٥) أو (اعتذر) (٣٦) بمثل ما اعتذرت به؟ قالوا: نعم، قلت: من؟ قالوا: هلال بن أمية الواقفي، (وربيعة بن مرارة العمري) (٣٧)، (وذكروا) (٣٨) لي رجلين صالحين قد شهدا بدرا قد اعتذرا بمثل الذي اعتذرت به، (وقيل) (٣٩) لهما مثل الذي قيل لك. قال: ونهى رسول اللَّه ﷺ عن كلامنا فطفقنا نغدو في الناس، لا يكلمنا أحد ولا يسلم علينا أحد ولا يرد علينا سلامًا، حتى إذا (وفت) (٤٠) أربعون ليلة جاءنا ⦗١١٥⦘ (رسول) (٤١) رسول اللَّه ﷺ أن اعتزلوا نساءكم، فأما هلال بن أمية فجاءت امرأته إلى رسول اللَّه فقالت له: إنه شيخ قد ضعف بصره فهل تكره أن أصنع له طعامه؟ قال: "لا، ولكن لا يقربنّك"، قالت: إنه واللَّه ما به حركة إلى شيء، واللَّه ما زال يبكي منذ كان من أمره ما كان إلى (يومه) (٤٢) هذا. قال: فقال لي بعض أهلي: لو استأذنتَ رسول اللَّه ﷺ في امرأتك كما استأذنت امرأة هلال بن أمية فقد أذن لها أن تخدمه، قال: (فقلت) (٤٣): (واللَّه) (٤٤) لا أستأذنه فيها، وما أدري ما يقول (٤٥) رسول اللَّه ﷺ إن استأذنته، وهو شيخ كبير وأنا رجل شاب، فقلت لامرأتي: الحقي بأهلك حتى يقضي اللَّه ما هو قاض. وطفقنا نمشي في الناس ولا يكلمنا أحد ولا يرد علينا سلامًا، قال: فأقبلت حتى تسورت جدارا لابن عم لي في حائطه، فسلمت فما حرك شفتيه يرد علي السلام، فقلت: أنشدك (باللَّه) (٤٦) أتعلم أني أحب اللَّه ورسوله؟ فما كلمني كلمة، ثم (عدت) (٤٧) فلم يكلمني حتى إذا كان في الثالثة أو الرابعة قال: اللَّه ورسوله أعلم، فخرجت. فإني لأمشي في السوق إذا الناس يشيرون (إلي) (٤٨) بأيديهم، وإذا نبطي من نبط الشام يسأل عني، فطفقوا يشيرون له إلي حتى جاءني فدفع إلي كتابا من بعض ⦗١١٦⦘ قومي بالشام: أنه قد بلغنا ما صنع بك صاحبُك وجفوتُه عنك فالحق بنا، فإن اللَّه لم يجعلك بدار هوان ولا دار مضيعة، (نواسك) (٤٩) في أموالنا، قال: قلت: إنا للَّه (٥٠)، قد طمع فيّ أهل الكفر، فيممت به تنورا فسجرته (به) (٥١). فواللَّه (إني) (٥٢) لعلى تلك الحال التي قد ذكر اللَّه، قد ضاقت علينا الأرض بما رحبت، وضاقت علينا أنفسنا، (صباحية) (٥٣) خمسين ليلة (منذ) (٥٤) نهي عن كلامنا، أنزلت التوبة على رسول اللَّه ﷺ، (ثم آذن رسول اللَّه ﷺ) (٥٥) بتوبة اللَّه علينا حين صلى الفجر. فذهب الناس يبشروننا، وركض رجل إليَّ فرسًا وسعى ساع من أسلم (فأوفى) (٥٦) على الجبل، وكان الصوت أسرع من الفرس، فنادى: يا كعب بن مالك أبشر، فخررت ساجدا وعرفت أن قد جاء الفرج، فلما جاءني الذي سمعت صوته (خففت) (٥٧) له ثوبين ببشراه، واللَّه ما أملك يومئذ ثوبين غيرهما واستعرت ثوبين. فخرجت قبل رسول اللَّه ﷺ (فلقيني) (٥٨) الناس فوجا فوجا (يهنئونني) (٥٩) بتوبة اللَّه علي حتى دخلت المسجد، فقام إليّ طلحة بن عبيد اللَّه يهرول حتى ⦗١١٧⦘ (صافحني) (٦٠) وهنأني، ما قام إلي من المهاجرين غيره، فكان كعب لا ينساها لطلحة. ثم أقبلت حتى وقفت على رسول اللَّه ﷺ كأن وجهه قطعة قمر، (و) (٦١) كان إذا سر (استنار) (٦٢) وجهه كذلك، فناداني: "هلم يا كعب أبشر بخير يوم مر عليك منذ ولدتك أمك"، قال: (فقلت) (٦٣): أمن عند اللَّه (أم) (٦٤) من عندك؟ قال: "لا، بل من عند اللَّه، إنكم صدقتم اللَّه (فصدقكم) (٦٥) (٦٦) "، قال: (قلت) (٦٧): إن من توبتي اليوم أن أخرج من مالي صدقة إلى اللَّه (وإلى رسوله) (٦٨)، قال (رسول اللَّه ﷺ) (٦٩): "أمسك عليك بعض مالك"، قلت: أمسك سهمي بخيبر، قال كعب: فواللَّه ما أبلى اللَّه رجلا في صدق الحديث ما أبلاني (٧٠).حضرت عبد الرحمان بن عبد اللہ بن کعب بن مالک، اپنے والد حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بنو الاصفر کا ارادہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ لڑائی کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے ان کے معاملہ کو کھول کر بیان فرمایا… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب بھی کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے سفر سے توریہ فرما لیتے … تاآنکہ یہ غزوہ پیش آیا۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شدید گرمی، دور کے سفر اور نئے دشمن سے سابقہ پیش آیا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو وہ مقصد کھول کر بیان کردیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں لے کر جا رہے تھے تاکہ مسلمان، دشمن کے شایانِ شان تیاری کرلیں۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیاری فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تیاری کرلی۔ میں نے صبح کے وقت تیاری کرنا چاہی لیکن میں تیاری نہ کرسکا یہاں تک کہ لوگ (تیار ہو کر) فارغ ہوگئے اور کہا جانے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح ہوتے ہی اپنے سفر پر روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے (دل میں) کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک دو دن میں تیاری کرلوں گا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالوں گا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں۔ جبکہ میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی قادر تھا اور اپنے زاد راہ کے حوالہ سے بھی قوی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلسل دن گزرتے رہے اور میں کچھ بھی نہ کرسکا یہاں تک کہ لشکر کے لوگ تیزی سے سفر کرنے لگے۔ پھر مجھ پر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے (پیچھے رہنے والوں میں) صرف ایسے آدمی کو دیکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دے رکھا تھا۔ یا ایسے آدمی کو دیکھا جس کے بارے میں نفاق کا چرچا تھا۔ اس بات نے مجھے بہت غمگین کردیا۔ ٣۔ اب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واپس آجانے کے وقت کے لئے عذر تیار کرنا شروع کیا اور باتیں بنانے کی کوشش شروع کی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی تقدیر پیش آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبوک کے مقام پر پہنچنے تک میری یاد ہی نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا۔ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ “ میری قوم کے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اسے کچھ چیزوں نے مصروف رکھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ ایک دوسرا آدمی بولا اور اس نے کہا۔ خدا کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم تو اچھی بات ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ ٤۔ پھر جب کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس پہنچنے والے ہیں۔ تو مجھ سے ہر باطل اور جو کچھ میں نے جھوٹ، عذر گھڑے تھے وہ سب دور ہوگئے۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھے اس حالت میں صرف سچ ہی نجات دے سکتا ہے۔ چناچہ میں نے سچ کو اکٹھا کیا۔ (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ میں) تشریف لائے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور مسجد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپسی فرماتے تو مسجد میں آتے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے جاتے۔ چناچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا۔ اے کعب ! ادھر آؤ تمہیں کس چیز نے میرے ساتھ سے پیچھے رکھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ والے آدمی کی طرح مسکرائے۔ کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں آپ کے ساتھ سے پیچھے رہنے کے وقت جس قدر وسعت اور قدرت میں تھا اتنا میں کبھی نہیں ہوا ۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر قسمیں کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی قسموں کا اعتبار کر کے ان کے لئے مغفرت طلب کر رہے تھے۔ اور ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ کی طرف سپرد فرما رہے تھے۔ پس جب مں و نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سچ بات کہہ ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رہا یہ آدمی ! تو اس نے سچ بولا ہے۔ پس تم کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔ “ چناچہ میں (وہاں سے) ا