حدیث نمبر: 39780
٣٩٧٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب (بن مالك) (١) عن أبيه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أراد غزوة (ورّى) (٢) بغيرها ⦗١١٠⦘ حتى كان غزوة تبوك، سافر رسول اللَّه ﷺ في حر شديد واستقبل سفرا بعيدا، فجلى للمسلمين عن أمرهم وأخبرهم بذلك ليتأهبوا أهبة (عدوهم) (٣) وأخبرهم بالوجه الذي يريد (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمان بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی عادت یہ تھی کہ) جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے کے ساتھ توریہ فرما لیتے حتی کہ غزوہ تبوک پیش آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک کا سفر سخت گرمی میں کیا اور اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دور جگہ جانا تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ان کے معاملہ (یعنی غزوہ) کے بارے میں وضاحت فرما دی اور انہیں اس کی خبر دے دی تاکہ لوگ دشمن کے سامان کی شایان شان تیاری کرلیں۔ اور جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو بتادیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (وسمى).
(٣) في [ع]: (غدوهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39780
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٩٤٩)، ومسلم (٢٧٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39780، ترقيم محمد عوامة 38160)