٣٩٧٧٨ - حدثنا وكيع (حدثنا) (١) سفيان عن أبي بكر بن أبي الجهم بن (صخير) (٢) العدوي عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن (عتبة) (٣) عن ابن عباس قال: ⦗١٠٩⦘ صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف بذي قرد أرض من (أرض) (٤) بني سليم، فصف الناس خلفه صفين: صف خلفه، وصف (موازي) (٥) العدو، فصلى بالصف الذي يليه ركعة، ثم نهض هؤلاء إلى مصاف هؤلاء، وهؤلاء إلى مصاف هؤلاء، فصلى بهم ركعة (٦).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذی قرد میں … بنو سلیم کے علاقہ میں …نماز خوف ادا فرمائی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے دو صفیں بنالیں۔ ایک صف نے آپ کے پیچھے (پہلے ایک رکعت) نماز پڑھی اور ایک صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صف کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔