٣٩٧٧١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن أبي سعيد الخدري قال: لما قسم رسول اللَّه ﷺ السبي بالجعرانة أعطى عطايا قريشا وغيرها من (العرب) (١)، ولم يكن في الأنصار منها شيء، (فكثرت) (٢) (القالة) (٣) وفشت حتى قال قائلهم: أما رسول اللَّه (فقد) (٤) لقي قومه. قال: فأرسل إلى سعد بن عبادة فقال: "ما مقالة بلغتني عن قومك أكثروا فيها؟ " قال: فقال له سعد: فقد كان ما بلغك. قال: "فأين أنت من (ذاك؟) (٥) " قال: ما أنا إلا رجل من قومي، قال: فاشتد غضبه، وقال: "اجمع قومك، ولا يكن معهم غيرهم". قال: فجمعهم في حظيرة من حظائر (السبي) (٦)، وقام على بابها وجعل لا ⦗٩٨⦘ يترك إلا من كان من قومه، وقد ترك رجالا من المهاجرين، (ورد) (٧) أناسًا. قال: ثم جاء النبي ﷺ (٨) يعرف في وجهه الغضب (فقال) (٩): "يا معشر الأنصار، [ألم أجدكم ضلالا فهداكم اللَّه"، فجعلوا يقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه و (من) (١٠) غضب رسوله: "يا معشر الأنصار [ألم أجدكم عالة فأغناكم اللَّه؟ "، فجعلوا يقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه وغضب رسوله، "يا معشر الأنصار] (١١) [ألم أجدكم أعداء فألف اللَّه بين قلوبكم"، فيقولون: نعوذ باللَّه من غضب اللَّه (١٢) وغضب رسوله] (١٣)، (فقال) (١٤): "ألا تجيبون؟ " قالوا: اللَّه ورسوله أمنُّ وأفضل، فلما سري عنه قال: "ولو شئتم لقلتم فصدقتم (وصدقتم) (١٥): ألم نجدك طريدا فآويناك، ومكذبا فصدقناك، وعائلا فآسيناك، ومخذولا فنصرناك"، فجعلوا يبكون ويقولون: اللَّه ورسوله أمن وأفضل، (١٦) "أوجدتم من شيء من دنيا أعطيتها قومًا أتألفهم على الإسلام، (و) (١٧) وكلتكم إلى اسلامكم، لو سلك الناس واديًا أو شعبًا وسلكتم واديًا أو شعبًا لسلكت واديكم (أو) (١٨) شعبكم، أنتم شعار، والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار". ⦗٩٩⦘ ثم رفع يديه حتى إني لأرى ما تحت منكبيه فقال: "اللهم اغفر للأنصار (ولأبناء الأنصار) (١٩) ولأبناء أبناء الأنصار، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول اللَّه (٢٠) إلى بيوتكم"، فبكى القوم حتى (أخضلوا) (٢١) لحاهم وانصرفوا وهم يقولون: رضينا باللَّه ربا، وبرسوله (٢٢) حظا ونصيبا (٢٣).حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ میں قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش وغیرہ کو قیدی عطا فرمائے لیکن ا ن قیدیوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار صحابہ کو کچھ بھی نہ دیا۔ اس پر بہت سی باتیں کہی گئیں اور پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تو اپنی قوم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف قاصد بھیجا اور استفسار فرمایا کہ ” مجھے تمہاری جانب سے کیسی بات پہنچی ہے جو وہ بہت زیادہ کر رہے ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں : انہوں نے جواب دیا۔ یقینا ایسی بات ہوئی ہوگی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں تو اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اپنی قوم کو جمع کرو اور ان کے ساتھ کوئی اور (قوم) نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سعد نے انصار کو قیدیوں کے باڑوں میں سے ایک باڑہ میں جمع کیا اور خود اس باڑہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور جو ان کی قوم میں سے آتا تھا یہ اسی کو (اندر جانے کے لئے) چھوڑتے تھے۔ اور کچھ مہاجرین کو بھی انہوں نے (اندر جانے کے لئے) چھوڑ دیا ۔ اور کچھ کو واپس کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ، غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ : ” کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا ۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی ۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی ؟ “ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔ “ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لئے دی تاکہ میں انہیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں… محسوس کیا ہے … اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ۔ ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ ؟ “ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔