حدیث نمبر: 39770
٣٩٧٧٠ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد اللَّه بن عبيدة أن أبا سفيان وحكيم بن حزام وصفوان بن أمية خرجوا يوم حنين ينظرون على من تكون (الدَّبْرَة) (٢)، فمر بهم أعرابي فقالوا: يا عبد اللَّه ما فعل الناس؟ قال: (لا) (٣) (يستقبلها) (٤) محمد أبدا، قال: و (ذلك) (٥) حين تفرق عنه ⦗٩٧⦘ أصحابه، فقال بعضهم لبعض: لربٌ من قريش أحب إلينا من رب (من) (٦) الأعراب، يا فلان اذهب فأتنا بالخبر -لصاحب لهم-، قال: فذهب حتى كان بين ظهراني القوم، فسمعهم يقولون: يا للأوس، يا للخزرج وقد (علوا) (٧) القوم، وكان شعار النبي ﷺ (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن ابو سفیان، حکیم بن حزام اور صفوان بن امیہ (اس ارادہ سے نکلے کہ) وہ دیکھیں کس کو شکست ہوتی ہے۔ (اس دوران) ان کے پاس سے ایک دیہاتی گزراتو انہوں نے پوچھا۔ اے عبد اللہ ! لوگوں کا کیا بنا ؟ اس نے جواب دیا ۔ محمد کبھی بھی حنین سے آگے نہیں جاسکتا۔ راوی کہتے ہیں : یہ اس وقت کا تاثر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متفرق ہوگئے تھے … تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ قریش میں سے کوئی رب (بڑا) بن جائے یہ بات ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی رب (بڑا) بنے۔ پھر آپس میں سے ایک سے کہا۔ اے فلاں ! جاؤ اور ہمارے پاس کوئی خبر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں؛ وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ قوم کے درمیان پہنچا تو اس نے انہیں یہ کہتے ہوئے سُنا۔ اے اوس، اے خزرج ! وہ لوگوں پر بلند ہوگئے۔ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعار تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ع، ي]: (الدايرة)، وفي [أ]: (الدبزة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) أي: لا ينتصر بعدها، وفي [جـ]: (يستقيلها).
(٥) في [هـ]: (كذلك).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [أ، ب]: (علقوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39770
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ موسى ضعيف وأخوه عبد اللَّه تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39770، ترقيم محمد عوامة 38151)