٣٩٧٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس بن مالك ⦗٩٦⦘ قال: أعطى رسول اللَّه ﷺ من غنائم (حنين) (٢)؛ الأقرع بن (حابس) (٣) مائة من الإبل وعيينة بن حصن مائة من الإبل؛ فقال ناس من الأنصار: يعطي رسول اللَّه غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم أو سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فأرسل إليهم فجاءوا فقال (لهم) (٤): " (٥) فيكم غيركم؟ " قالوا: لا إلا ابن أختنا، قال: "ابن اخت القوم منهم"، فقال: "قلتم كذا وكذا، أما ترضون أن يذهب الناس بالشاء والبعير، وتذهبون بمحمد (٦) إلى دياركم"، قالوا: بلى يا رسول اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "الناس دثار والأنصار شعار، الأنصار كرشي وعيبتي، ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار" (٧).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنائم میں سے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن کو بھی ایک سو اونٹ عطا فرمائے۔ انصار میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری (حاصل کردہ) غنائم ایسے لوگوں کو عطاء فرمائی ہیں جن کے (رشتہ داروں کے) خون سے ہماری تلواریں تر ہیں یا ان کی تلواریں ہمارے (رشتہ داروں کے) خون سے تر ہیں ؟ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان انصار کی طرف قاصد بھیجا چناچہ یہ تمام انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : کیا تم میں تمہارے (انصار کے) سوابھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ! لیکن ہمارے بھانجے (ہمارے ساتھ ہیں) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کے بھانجے بھی قوم کا حصہ ہیں “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تم لوگوں نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جاؤ ؟ “ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیوں نہیں ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ والا کپڑا ہیں۔ انصار میرے مخلص دوست اور راز دار ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔