٣٩٧٦٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا موسى عن أخيه عبد اللَّه بن عبيدة أن نفرا من هوازن جاؤا بعد الوقعة فقالوا: يا رسول اللَّه إنا نرغب في رسول اللَّه (١)، قال: "في أي ذلك ترغبون أفي الحسب أم في المال"، قالوا: (بل) (٢) في الحسب ⦗٩٥⦘ (والأمهات) (٣) والبنات، وأما المال فسيرزقنا اللَّه، قال: "أما أنا فأرد ما في يدي وأيدي بني هاشم من عورتكم، وأما الناس (فسأشفع) (٤) لكم إليهم إذا صليت إن شاء اللَّه، (فقوموا) (٥) فقولوا: كذا وكذا"، فعلمهم ما يقولون، (ففعلوا) (٦) (ما) (٧) أمرهم به، وشفع لهم، فلم يلق أحد من (المسلمين) (٨) إلا رد ما في يديه من عورتهم غير الأقرع ابن حابس وعيينة بن حصن، أمسكا امرأتين كانتا في أيديهما (٩).حضرت عبد اللہ بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے بعد قبیلہ ہوازن کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں آپ سے ایک رغبت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” تمہاری رغبت کس چیز میں ہے۔ حسب (رشتہ داروں میں) یا مال میں “ انہوں نے جواب دیا (مال میں نہیں) بلکہ حسب میں، ماؤں میں اور بیٹیوں میں۔ رہا مال تو وہ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر دے دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو کچھ میرے اور بنو ہاشم کے قبضہ میں موجود ہے وہ تو میں واپس کرتا ہوں اور باقی لوگوں سے میں تمہارے لئے سفارش کروں گا جب میں نماز پڑھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔ پس تم کھڑے ہوجانا اور یوں یوں کہنا۔ پس جو انہوں نے کہنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ سکھا دیا ۔ چناچہ انہوں نے وہی کچھ کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی سفارش فرمائی۔ چناچہ جو کچھ عورتوں میں سے مسلمانوں کے قبضے میں موجود تھیں وہ سارا کچھ مسلمانوں نے واپس کردیا سوائے حضرت اقرع بن حابس کے اور عیینہ بن حصن کے ۔ جو عورتیں ان دونوں کے پاس تھیں انہوں نے انہیں اپنے پاس ہی رکھا۔