٣٩٧٦٣ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (حدثنا) (١) يوسف بن صهيب عن عبد اللَّه ابن (بريدة) (٢) أن رسول اللَّه ﷺ يوم حنين انكشف الناس عنه، فلم يبق معه إلا رجل يقال: له زيد، آخذ بعنان بغلته الشهباء، وهي التي أهداها له النجاشي، فقال (٣) رسول اللَّه ﷺ: "ويحك [يا زيد ادع الناس"، فنادى: أيها الناس هذا رسول اللَّه (٤) (يدعوكم) (٥)، فلم يجب أحد عند ذلك، فقال: "ويحك] (٦) (خُصَّ) (٧) الأوس والخزرج"، فقال: يا معشر الأوس والخزرج، هذا رسول اللَّه يدعوكم، فلم يجبه أحد عند ذلك، فقال: "ويحك ادع المهاجرين، فإن للَّه في أعناقهم بيعة" (٨).حضرت عبد اللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا … یہ وہی خچر تھا جو نجاشی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کیا تھا … جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے کہا ۔ ” تو ہلاک ہوجائے اے زید ! لوگوں کو بلاؤ۔ “ چناچہ زید نے آواز دی۔ اے لوگو ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے ! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔ “ چناچہ حضرت زید نے آواز دی۔ اے اوس و خزرج کے لوگو ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے۔ مہاجرین کو بلا لو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لئے بیعت ہے۔ “ راوی کہتے ہیں : مجھے حضرت بریدہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ (واپس) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے (اور لڑے) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔