حدیث نمبر: 39760
٣٩٧٦٠ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان (بن) (١) المغيرة (عن ثابت) (٢) عن أنس قال: جاء أبو طلحة يوم حنين يضحك رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، ألم تر إلى أم سليم معها خنجر؟ فقال لها رسول اللَّه ﷺ: " (يا) (٣) أم سليم ما أردت إليه؟ " قالت: أردت إن (دنا) (٤) إلي أحد منهم طعنته به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسانے لگے اور فرمایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کو نہیں دیکھا ان کے ہاتھ میں چھرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلیم سے پوچھا۔ ” اے ام سلیم ! اس چھرے سے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ “ حضرت ام سلیم نے جواب دیا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا تو میں یہ چھرا اسے گھونپ دوں گی۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [ق].
(٤) في [أ، ب]: (إليك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39760
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٠٩)، وأحمد (١٢١٠٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39760، ترقيم محمد عوامة 38142)