مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في (بعث) مؤتة باب: غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
٣٩٧٥٤ - حدثنا علي بن مسهر عن (الأجلح) (١) عن الشعبي قال: لما أتى رسول اللَّه ﷺ (٢) قتل جعفر بن أبي طالب ترك رسول اللَّه ﷺ امرأته أسماء بنت عميس حتى أفاضت (عبرتها) (٣)، (وذهب) (٤) بعض حزنها، ثم أتاها فعزاها ودعا بني جعفر فدعا لهم، ودعا لعبد اللَّه بن جعفر أن يبارك له (في) (٥) صفقة (يده) (٦)، فكان لا يشتري (شيئًا) (٧) إلا ربح (فيه) (٨)، فقالت له أسماء: يا رسول اللَّه إن هؤلاء يزعمون أنا لسنا من المهاجرين؟ فقال: "كذبوا، لكم الهجرة مرتين، هاجرتم إلى النجاشي وهاجرتم إلي" (٩) (١٠).حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کی بیوی اسماء بنت عمیس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ انہوں نے آنسو بہا لئے اور غم ہلکا ہوگیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اسمائ کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے تعزیت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کے بیٹوں کو بلایا اور ان کے لئے دُعا فرمائی۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جعفر کے لئے یہ دعا کی کہ ان کے سودے میں برکت دی جائے۔ پس عبد اللہ جب بھی کوئی چیز خریدتے تو انہیں اس میں نفع ہوتا۔ پھر حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین میں سے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ (ایک مرتبہ) تم نے نجاشی کی طرف ہجرت کی اور (ایک مرتبہ) تم نے میری طرف ہجرت کی۔