حدیث نمبر: 39753
٣٩٧٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ كان قطع بعثا قبل مؤتة وأمر عليهم أسامة بن زيد، وفي ذلك (البعث) (١) أبو بكر وعمر قال: [فكان أناس من الناس يطعنون في ذلك لتأمير رسول اللَّه ﷺ أسامة عليهم (قال) (٢)] (٣): فقام رسول اللَّه ﷺ فخطب الناس ثم قال: "إن أناسا منكم قد طعنوا علي في تأمير أسامة، وإنما طعنوا في تأمير (أسامة) (٤) كما طعنوا في تأمير أبيه من قبله، وأيم اللَّه إن كان (لحقيقًا) (٥) للإمارة، وإن كان (لمن) (٦) أحب الناس إلي، وإن ابنه من أحب الناس إلي من بعده، وإني أرجو أن يكون من صالحيكم، فاستوصوا به خيرًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا۔ اسی لشکر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے … راوی کہتے ہیں : بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت اسامہ کو اس لشکر والوں پر امیر بنانے پر اعتراض کیا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : ” یقینا تم میں سے کچھ لوگ میری طرف سے اسامہ کو امیر بنانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حضرت اسامہ کے امیر بنانے پر اسی طرح اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اس سے پہلے حضرت اسامہ کے والد کو امیر بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم !ً بلاشبہ وہ امیر بننے کے لائق تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور ان کا بیٹا ان کے بعد مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تم میں سے نیکوکار لوگوں میں سے ہوگا۔ تم اس کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کرو۔ “

حواشی
(١) في [ي]: (اليعث).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٤) في [ع]: (أنا به).
(٥) في [ع]: (لحقيق).
(٦) في [ع]: (من).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39753
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي، وأخرجه ابن سعد ٤/ ٦٧، وابن عساكر ٨/ ٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39753، ترقيم محمد عوامة 38135)