مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في (بعث) مؤتة باب: غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
٣٩٧٤٧ - حدثنا أبو أسامة عن مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن الحسن (١) بن سعد قال: لما جاء النبي ﷺ (٢) خبرُ قتل زيد وجعفر وعبد اللَّه بن رواحة نعاهم إلى الناس وترك أسماء حتى أفاضت من عبرتها، ثم أتاها (فعزاها) (٣) (وقال) (٤): "ادعي لي بني أخي"، قال: فجاءت بثلاثة بنين كأنهم (أفراخ) (٥)، (قالت) (٦): فدعا الحلاق فحلق رؤوسهم، فقال: "أما محمد فشبيه ⦗٨٥⦘ عمنا ((أبي) (٧) طالب) (٨)، وأما عون (اللَّه) (٩) فشبيه خلقى وخلقى، وأما عبد اللَّه -فأخذ بيده (فشالها) (١٠)، ثم قال-: اللهم بارك (لعبد اللَّه) (١١) في صفقة (يمينه) (١٢) "، قال: فجعلت (أمهم) (١٣) (تفرح) (١٤) لهم، فقال لها رسول اللَّه ﷺ: "أتخشين عليهم الضيعة، وأنا وليهم في الدنيا والآخرة" (١٥).حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت زید، جعفر اور عبد اللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا : میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت اسمائ … پرندوں کے بچوں کی طرح کے … تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا : ” محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبد اللہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ ! عبد اللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جواب دیا ۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو ؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔