مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في (بعث) مؤتة باب: غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
٣٩٧٣٩ - حدثنا سليمان بن حرب قال: (حدثنا) (١) الأسود بن شيبان عن خالد ابن سُمَيْر قال: قدم علينا (عبد اللَّه) (٢) بن رباح الأنصاري، قال: وكانت الأنصار تفقهه، قال: (حدثنا) (٣) أبو قتادة فارس رسول اللَّه ﷺ قال: بعث رسول اللَّه ﷺ جيش الأمراء وقال: "عليكم زيد بن حارثة، فإن أصيب زيد فجعفر بن أبي طالب، فإن أصيب جعفر فعبد اللَّه بن رواحة"، فوثب جعفر فقال: يا رسول اللَّه ما كنت أرهب أن تستعمل علي زيدا فقال: "امض، فإنك لا تدري أي ذلك خير"، فانطلقوا فلبثوا ما شاء اللَّه. ثم أن رسول اللَّه ﷺ صعد المنبر وأمر فنودي الصلاة جامعة، فاجتمع الناس إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: "ثاب خير، ثاب خير -ثلاثًا- أخبركم عن جيشكم هذا الغازي، (انطلقوا) (٤) فلقوا العدو (فقتل) (٥) زيد شهيدًا، فاستغفروا له، ثم أخذ اللواء جعفر بن أبي طالب فشد على القوم حتى قتل شهيدًا، اشهدوا له بالشهادة واستغفروا له، ثم أخذ اللواء (عبد اللَّه بن رواحة فأثبت قدميه حتى قتل شهيدًا، فاستغفروا له، ثم أخذ اللواء) (٦) خالد بن الوليد ولم يكن من الأمراء، هو أمَّرَ نفسه"، ثم قال رسول اللَّه ﷺ (٧): " [اللهم إنه سيف (٨) من سيوفك (فأنت) (٩) ⦗٧٨⦘ تنصره"، فمن يومئذ سمي سيف اللَّه (١٠)، وقال رسول اللَّه ﷺ] (١١): "انفروا (فأمدوا) (١٢) إخوانكم ولا (١٣) (يتخلفن) (١٤) منكم أحد"، فنفروا مشاة وركبانا، وذلك في حر شديد. فبينما هم ليلة (مما يلين) (١٥) (عن) (١٦) الطريق (إذ) (١٧) نعس رسول اللَّه ﷺ حتى مال عن (الرحل) (١٨)، فأتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: "من هذا؟ " فقلت: أبو قتادة، (فسار أيضًا، ثم نعس حتى مال عن (الرحل) (١٩) فأتيته فدعمته بيدي، فلما وجد مس يد رجل اعتدل فقال: "من هذا؟ " فقلت: أبو قتادة) (٢٠)، قال: "في الثانية أو الثالثة"، قال: "ما أراني إلا قد شققت عليك منذ الليلة"، قال: قلت كلا بأبي أنت وأمي، ولكن أرى الكرى والنعاس قد شق عليك، فلو عدلت (فنزلت) (٢١) حتى يذهب كراك، قال: "إني أخاف أن (يخذل) (٢٢) الناس"، قال: (قلت) (٢٣): كلا بأبي (أنت) (٢٤) وأمي، قال: فابغنا مكانا ⦗٧٩⦘ (خمرًا) (٢٥)، قال: فعدلت عن الطريق، فإذا (أنا) (٢٦) بعقدة من شجر، فجئت فقلت: يا رسول اللَّه هذه عقدة من شجر قد أصبتها. قال: فعدل رسول اللَّه ﷺ وعدل معه من يليه من أهل الطريق، (فنزلوا) (٢٧) واستتروا بالعقدة من الطريق، فما استيقظنا إلا بالشمس طالعة علينا فقمنا (ونحن) (٢٨) (وهلين) (٢٩)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "رويدا رويدا"، حتى تعالت الشمس. ثم قال: "من كان يصلي هاتين الركعتين قبل صلاة الغداة فليصلهما"، فصلاهما من كان يصليهما (ومن كان لا يصليهما) (٣٠)، ثم أمر فنودي بالصلاة، ثم تقدم رسول اللَّه ﷺ فصلى بنا، فلما سلم قال: "إنا نحمد اللَّه، (أنا) (٣١) لم نكن في شيء من أمر الدنيا، يشغلنا عن صلاتنا، ولكن أرواحنا كانت بيد اللَّه، أرسلها أنى شاء، ألا فمن أدركته هذه الصلاة من عبد صالح فليقض معها مثلها". قالوا: يا رسول اللَّه العطش، قال: "لا عطش يا أبا قتادة، أرني الميضأة"، قال: فأتيته بها (فجعلها) (٣٢) في (ضِبْنِهِ) (٣٣)، ثم التقم فمها، فاللَّه أعلم أنفث فيها أم لا، ثم قال: "يا أبا قتادة أرني (الغمر) (٣٤) على الراحلة"، فأتيته بقدح بين القدحين ⦗٨٠⦘ فصب فيه، فقال: "اسق القوم"، ونادى رسول اللَّه ﷺ ورفع صوته: "ألا من أتاه (إناؤه) (٣٥) فليشربه"، فأتيت رجلا فسقيته. ثم رجعت إلى رسول اللَّه ﷺ بفضلة القدح، (فذهبت) (٣٦) فسقيت الذي يليه حتى سقيت أهل تلك الحلقة، ثم رجعت إلي رسول اللَّه ﷺ (٣٧) بفضلة القدح فذهبت فسقيت حلقة أخرى حتى سقيت (سبع) (٣٨) رفق، وجعلت أتطاول (أنظر) (٣٩) هل بقي فيها شيء؟ فصب رسول اللَّه ﷺ في القدح فقال لي: "اشرب"، قال: قلت: بأبي (أنت) (٤٠) وأمي، إني (لا أجد) (٤١) (بي) (٤٢) كثير عطش، قال: إليك عني، فإني ساقي القوم منذ اليوم، قال: فصب رسول اللَّه ﷺ في القدح فشرب، ثم صب في القدح فشرب، (ثم صب (في) (٤٣) القدح فشرب) (٤٤) (ثم) (٤٥) ركب وركبنا. ثم قال: "كيف ترى القوم صنعوا حين [فقدوا نبيهم (وأرهقتهم) (٤٦) صلاتهم؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: "أليس فيهم أبو بكر وعمر إن يطيعوهما ⦗٨١⦘ فقد رشدوا ورشدت] (٤٧) (أمهم) (٤٨)، وإن يعصوهما فقد غووا وغوت (أمهم) (٤٩) "، -قالها ثلاثًا-. ثم سار وسرنا حتى إذا كنا في نحر الظهيرة إذا ناس يتبعون ظلال الشجرة فأتيناهم فإذا ناس من المهاجرين فيهم عمر بن الخطاب، قال: فقلنا لهم: كيف صنعتم (حين) (٥٠) فقدتم نبيكم وأرهقتكم صلاتكم؟ قالوا: نحن واللَّه نخبركم وثب عمر فقال لأبي بكر: إن اللَّه قال في كتابه: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ (مَيِّتُونَ) (٥١)﴾ [الزمر: ٣٠] وإني (واللَّه) (٥٢) ما أدري لعل اللَّه قد توفى نبيه (٥٣) (فقم) (٥٤) فصل وانطلق، إني ناظر بعدك (ومتلوم) (٥٥)، فإن رأيت شيئا وإلا لحقت بك، قال: (وأقيمت) (٥٦) الصلاة، وانقطع الحديث (٥٧).حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبد اللہ بن رباح انصاری تشریف لائے … اور انصار صحابہ ان کو فقیہ سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش الامراء (غزوہ مؤتہ کا لشکر) کو روانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : ” تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں۔ پس اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبد اللہ بن رواحہ ہیں۔ “ حضرت جعفر اچھل پڑے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جانے دو ! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔ ٢۔ پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے ۔ پھر (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاۃ جامعۃ۔ چناچہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” خیر کی بات پہنچی ہے ، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی… میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ یہ لوگ (یہاں سے) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی) ہوئی چناچہ حضرت زید شہادت کی حالت میں قتل کردیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لئے استغفار کرو، پھر جھنڈا حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھال لیا اور انہوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہوگئے۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اور ان کے لئے استغفار کرو۔ پھر جھنڈا، حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جما لئے (لیکن) آخر کار وہ شہید کردیئے گئے۔ تم ان کے لئے استغفار کرو پھر (ان کے بعد) جھنڈا حضرت خالد بن الولید نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ (پہلے سے متعین) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنا لیا ہے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگی ” اے اللہ ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مدد فرما۔ “ اس دن سے حضرت خالد بن الولید کا نام سیف اللہ المسلول پڑگیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ رہے۔ “ چناچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔ ٣۔ ایک رات صحابہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ میں (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ ابو قتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا : میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک طرف ہوجائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند ختم ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان یخذل الناس۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ ٤۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو۔ “ راوی کہتے ہیں : میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھُنڈ نظر آیا۔ چناچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ درختوں کا جُھن