مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما حفظت) في (بعث) مؤتة باب: غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
٣٩٧٣٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) أبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ بعث إلى مؤتة فاستعمل زيدا فإن قتل زيد فجعفر، فإن قتل جعفر فابن رواحة، فتخلف ابن رواحة (يجمع) (٣) مع النبي ﷺ، فرآه النبي ﷺ فقال: "ما خلفك؟ " قال: أجمع معك، قال: "لغدوة أو روحة في سبيل اللَّه خير من الدنيا وما فيها" (٤).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤتہ کے طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید کو حاکم مقرر فرمایا اور اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر حضرت جعفر امیر ہوں گے اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر ابن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت ابن رواحہ لشکر سے پیچھے رہ گئے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا اور پوچھا۔ تمہیں کس چیز نے (لشکر سے) پیچھے کردیا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ (اس لئے رُکا) تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “