حدیث نمبر: 39733
٣٩٧٣٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) نافع بن عمر عن أمية بن صفوان عن أبي بكر بن أبي زهير الثقفي عن أبيه أنه سمع النبي ﷺ يقول في خطبته (بالنبأ) (٢) أو (بالنباوة) (٣) (و) (٤) -النباوة (٥) من الطائف-: "توشكون أن تعرفوا أهل الجنة من أهل النار وخياركم من شراركم"، قالوا: بم يا رسول اللَّه؟ قال: "بالثناء الحسن والثناء السيء، أنتم شهداء اللَّه في الأرض" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام نَبَاۃَ یا مقام نَبَاوَۃ میں … نباوہ طائف کا حصہ ہے۔ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے۔ ” قریب ہے کہ تم اہل جنت کو اہل جہنم سے (جدا) پہچان لو ۔ اور اپنے بہتر لوگوں کو بدتر لوگوں سے (جدا) پہچان لو۔ “ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کس ذریعہ سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” اچھی تعریف کے ذریعہ سے اور بُری تعریف کے ذریعہ سے، تم لوگ زمین میں خدا کے گواہ ہو۔ “

حواشی
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ق، هـ]: (بالنباواة).
(٣) في [ق، هـ]: (بالنباواة).
(٤) في [س]: (أو).
(٥) في [جـ]: (البنيلاوة)، وفي [أ، ب، ط]: (البناوة)، وصوابه: (النباوة) كما في لسان العرب ومعجم البلدان والقاموس وغيرها.
(٦) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن أبي زهير الثقفي؛ أخرجه أحمد (١٥٤٣٩)، وابن ماجه (٤٢٢١)، والحاكم ١/ ١٢٠، والدولابي ١/ ٣٢، والطبراني ٢٠/ ٣٨٢، والبيهقي ١٠/ ١٢٣، وابن حبان (٧٣٨٤)، والفاكهي (٢٩٠٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٦٠٢)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٣٠٦)، والمزي ٣٣/ ٩١، وعبد بن حميد (٤٤٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39733
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39733، ترقيم محمد عوامة 38115)