مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكر) في الطائف باب: وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
٣٩٧٢٧ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد اللَّه بن عثمان بن (خثيم) (١) عن أبي الزبير أن رسول اللَّه ﷺ حاصر (أهل) (٢) الطائف، (٣) (فجاءه) (٤) أصحابه ⦗٧٢⦘ (فقالوا) (٥): يا رسول اللَّه (أحرقتنا) (٦) نبال ثقيف، فادع اللَّه عليهم، فقال: "اللهم اهد ثقيفا" -مرتين، قال: وجاءته خولة فقال: إني نبئت أن بنت خزاعة ذات حُلي، فنفلني حليها (إن) (٧) (فتح) (٨) اللَّه عليك الطائف غدا، قال: "إن لم يكن أذن لنا في قتالهم؟ " [فقال رجل - (نراه) (٩) عمر-: يا رسول اللَّه ما مقامك على قوم لم (يؤذن) (١٠) لك في قتالهم؟] (١١) قال: "فأذن في الناس بالرحيل"، فنزل الجعرانة، فقسم بها غنائم حنين، ثم دخل منها بعمرة، ثم انصرف إلى المدينة (١٢).حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔ دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو ؟ اس پر ایک آدمی نے … ہمارے خیال میں حضرت عمر تھے … کہا … یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آ کر) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنیمتوں کو تقسیم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں سے عمرہ کے لئے داخل ہوگئے پھر (عمرہ کے بعد) مدینہ منورہ چلے گئے۔