مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما (ذكر) في الطائف باب: وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
٣٩٧٢٦ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن طلحة بن (جبر) (١) عن المطلب بن عبد اللَّه عن مصعب بن عبد الرحمن (عن عبد الرحمن) (٢) بن عوف قال: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة انصرف إلى الطائف، فحاصرهم تسع عشرة أو ثماني عشرة فلم ⦗٧١⦘ يفتتحها، ثم (أوغل) (٣) روحة أو غدوة، (فنزل) (٤) (ثم هجّر) (٥)، ثم قال: "أيها الناس، إني فرط لكم فأوصيكم بعترتي خيرا، (وإن) (٦) موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده (ليقيمن) (٧) الصلاة (وليؤتن) (٨) الزكاة أو لأبعثن إليهم رجلا مني أو كنفسي (فليضربن) (٩) أعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، (قال) (١٠): (فرأى) (١١) الناس أنه أبو بكر (أو عمر) (١٢)، فأخذ بيد علي (١٣) فقال: "هذا" (١٤).حضرت عبد الرحمان بن عوف روایت بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف کی طرف چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والوں کا اٹھارہ یا انیس (دن) محاصرہ کیا لیکن طائف کو فتح نہ کرسکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح یا ایک شام محاصرہ کو شدید کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت (ہی) چل پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تم سے پہلے (آگے) پہنچنے والا ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنی عزت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ اور یقین جانو کہ تمہارے ساتھ میرے وعدہ کی جگہ حوض ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ مں ے میری جان ہے تم لوگ نماز کو ضرور بالضرور قائم کرتے رہنا اور زکوۃ کو ضرور بالضرور ادا کرتے رہنا یا میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک اپنی طرح کا ایک آدمی بھیج دوں گا۔ جو اُن (اہل ایمان) سے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کے افراد کو قیدی بنا لائے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال یہ ہوا کہ یہ آدمی حضرت ابوبکر ہوں گے یا حضرت عمر ہوں گے۔ لیکن جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ آدمی یہ ہے۔