حدیث نمبر: 39725
٣٩٧٢٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي العباس عن عبد اللَّه بن عمرو (و) (٣) قال مرة: عن ابن عمر قال: حاصر رسول اللَّه ﷺ أهل الطائف فلم ينل منهم شيئًا، فقال: "إنا قافلون غدا"، فقال المسلمون: (نرجع) (٤) ولم نفتتحه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اغدوا على القتال"، فغدوا، (فأصابتهم) (٥) جراح فقال رسول اللَّه ﷺ: "إنا قافلون غدا"، فأعجبهم ذلك، فضحك رسول اللَّه ﷺ (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے عرض کیا۔ ہم واپس لوٹ جائیں گے حالانکہ ہم نے اس کو فتح نہیں کیا۔ اس پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (چلو) صبح بھی لڑائی کرلو۔ چناچہ صحابہ نے صبح قتال کیا تو انہی کو زخم پہنچ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم کل واپس روانہ ہوجائیں گے۔ تو یہ بات صحابہ کرام کو پسندآئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیئے۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س]: (ترجع).
(٥) في [ع]: (فأصابهم).
(٦) سقط من: [ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39725
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٢٥)، ومسلم (١٨٧٨)، وقد رواه أحمد (٤٥٨٨)، وقال: (قيل لسفيان: ابن عمرو؟ قال: لا، ابن عمر).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39725، ترقيم محمد عوامة 38107)