٣٩٧٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) أبو (مالك) (٢) الأشجعي قال: حدثنا سالم بن أبي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: خرج رسول اللَّه ﷺ من بعض حجره فجلس عند بابها، وكان إذا جلس وحده لم يأته أحد حتى يدعوه، قال: "ادع لي (أبا بكر) (٣) "، قال: فجاء فجلس (٤) بين يديه فناجاه طويلا، ثم أمره فجلس عن يمينه أو عن يساره، ثم قال: "ادع لي عمر"، فجاء فجلس ⦗٦٩⦘ (مجلس) (٥) أبي بكر فناجاه طويلا، فرفع عمر صوته فقال: يا رسول اللَّه هم رأس الكفر، هم الذين زعموا أنك ساحر، وأنك كاهن، وأنك كذاب، وأنك مفتر، ولم يدع شيئًا مما كان أهل مكة يقولونه إلا ذكره، فأمره أن يجلس من الجانب الآخر فجلس أحدهما عن يمينه والآخر عن يساره، ثم دعا الناس فقال: "ألا أحدثكم بمثل صاحبيكم هذين؟ " قالوا: نعم يا رسول اللَّه، فأقبل بوجهه إلى أبي بكر فقال: "إن إبراهيم كان ألين في اللَّه من الدهن (باللبن) (٦) "، ثم أقبل على عمر فقال: "إن نوحا كان أشد في اللَّه من الحجر، وإن الأمر أمر عمر فتجهزوا"، فقاموا فتبعوا أبا بكر فقالوا: يا أبا بكر إنا كرهنا أن نسأل عمر ما هذا الذي (ناجاك) (٧) به رسول اللَّه ﷺ (٨)؟ قال: قال لي: "كيف (تأمرني) (٩) في (غزو) (١٠) مكة؟ "، قال: قلت: يا رسول اللَّه هم قومك، قال: حتى رأيت أنه (سيطيعني) (١١)، قال: ثم دعا عمر، فقال عمر: إنهم رأس الكفر حتى ذكر كل سوء كانوا (يقولونه) (١٢)، "وأيم اللَّه لا تذل العرب حتى يذل أهل مكة فآمركم (بالجهاز) (١٣) (لتغزوا) (١٤) مكة" (١٥).حضرت محمد بن الحنفیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر نکلے اور اس کے دروازہ پر تشریف فرما ہوگئے اور (عادت یہ تھی کہ) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے تشریف فرما ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی بھی نہیں آتا تھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خود بلاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت ابوبکر تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کافی دیر تک سرگوشی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا چناچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب یا بائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حضرت عمر کو میرے پاس بلاؤ۔ چناچہ حضرت عمر حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کی جگہ (سامنے) بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بھی کافی لمبی سرگوشی فرمائی اس دوران حضرت عمر کی آواز بلند ہوگئی اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تو کفر کے سردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو جادو گر گمان کیا اور آپ کو کاہن کہا اور آپ کو کذاب سمجھا اور آپ کو جھوٹ باندھنے والا کہا۔ حضرت عمر نے ان تما م باتوں کا ذکر فرمایا جو اہل مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری جانب بیٹھ جائیں۔ چناچہ ان حضرات شیخین میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے ان دو ساتھیوں کی مثال نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت ابوبکر کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا : یقین کرو کہ ابراہیم اللہ تعالیٰ کے بارے میں دودھ میں تیل سے بھی زیادہ نرم تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک حضرت عمر کی طرف کیا اور فرمایا۔ حضرت نوح اللہ کے بارے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ اور فیصلہ تو وہی ہے جو عمر نے کیا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے تیاری شرو ع کردی اور کھڑے ہوگئے ۔ اور حضرت ابوبکر کے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے۔ اے ابوبکر ! حضرت عمر سے پوچھنا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ تم مکہ (والوں سے) لڑنے کے بارے میں مجھے کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر کہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ آپ ہی کی قوم ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تو دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ عنقریب میری اطاعت کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا تو حضرت عمر نے کہا۔ یہ لوگ تو کفر کے سردار ہیں حتی کہ حضرت عمر نے ہر اس بُری بات کا ذکر کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے۔ اور خدا کی قسم ! جب تک مکہ والے ذلیل نہیں ہوں گے تب تک عرب والے ذلیل نہیں ہوں گے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مکہ پر حملہ کرو۔