حدیث نمبر: 39722
٣٩٧٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن حمزة الزيات قال: لما كان يوم فتح مكة دخل رسول اللَّه ﷺ من (أعلى) (١) مكة، ودخل خالد بن الوليد من أسفل مكة، ⦗٦٨⦘ قال: [فقال (رسول) (٢) اللَّه ﷺ: "لا تقتلن"، فوضع يده في القتل، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقتلن"، فوضع يده في القتل] (٣)، فقال: "ما حملك على ما صنعت؟ " فقال: يا رسول اللَّه ما قدرت على أن لا أصنع إلا الذي (صنعت) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمزہ زیات روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور حضرت خالد بن ولید مکہ کے نچلے حصہ سے داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم ارشاد فرمایا : تم ہرگز قتل نہ کرنا۔ پھر ان کا ہاتھ قتل میں ملوث ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس چیز نے ابھارا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے سوا کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔

حواشی
(١) في [جـ، ع]: (أعلا).
(٢) في [س]: (يا رسول).
(٣) في [هـ]: تكرر ما بين المعكوفين.
(٤) في [س]: (صنعته).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39722
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حمزة الزيات من تابعي التابعين.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39722، ترقيم محمد عوامة 38104)