٣٩٧١٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) أسامة بن زيد عن الزهري عن عبد الرحمن بن الأزهر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ عام الفتح وأنا غلام (شاب) (٢) يسأل عن منزل خالد بن الوليد، (وأتي) (٣) بشارب فضربوه بما في أيديهم، فمنهم من ضرب بالسوط وبالنعل وبالعصى، (وحثا) (٤) عليه النبي ﷺ التراب، فلما كان أبو بكر أتي بشارب فسأل أصحابه: كم ضرب رسول اللَّه ﷺ الذي ضرب؟ (فحزره) (٥) أربعين فضرب أبو بكر أربعين (٦).حضرت عبد الرحمان بن ازہر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے سال دیکھا جبکہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کے گھر کا پوچھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا چناچہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا انہوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ کچھ نے کوڑے کے ساتھ اور کچھ نے جوتیوں کے ساتھ اور کچھ نے لاٹھی کے ساتھ مارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مٹی گرائی پھر حضرت ابوبکر کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔ جس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مارا تھا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا مارا تھا ؟ تو اس کا اندازہ چالیس لگایا گیا چناچہ حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے۔