حدیث نمبر: 39719
٣٩٧١٩ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) أسامة بن زيد عن الزهري عن عبد الرحمن بن الأزهر قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ عام الفتح وأنا غلام (شاب) (٢) يسأل عن منزل خالد بن الوليد، (وأتي) (٣) بشارب فضربوه بما في أيديهم، فمنهم من ضرب بالسوط وبالنعل وبالعصى، (وحثا) (٤) عليه النبي ﷺ التراب، فلما كان أبو بكر أتي بشارب فسأل أصحابه: كم ضرب رسول اللَّه ﷺ الذي ضرب؟ (فحزره) (٥) أربعين فضرب أبو بكر أربعين (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمان بن ازہر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے سال دیکھا جبکہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کے گھر کا پوچھ رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا چناچہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا انہوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ کچھ نے کوڑے کے ساتھ اور کچھ نے جوتیوں کے ساتھ اور کچھ نے لاٹھی کے ساتھ مارا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مٹی گرائی پھر حضرت ابوبکر کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔ جس آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مارا تھا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنا مارا تھا ؟ تو اس کا اندازہ چالیس لگایا گیا چناچہ حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (مثاب).
(٣) في [هـ]: (فأتي).
(٤) في [أ، ب، جـ، ي]: (وحثى)، وفي [ع]: (وحصا)، وفي [س]: (وجثي).
(٥) في [جـ، س، ي]: (فحزره)، وفي [ق]: (فجدره)، وفي [هـ]: (فحرز)، وفي [ع]: (فحرر).
(٦) منقطع؛ الزهري لا يروي عن عبد الرحمن بن الأزهر، أخرجه أحمد (١٦٨٠٩)، وأبو داود (٤٤٨٩)، والنسائي في الكبرى (٥٢٨٣)، والبيهقي ٨/ ٣٢٠، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٨٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٣٨)، والحاكم ٤/ ٣٧٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39719
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39719، ترقيم محمد عوامة 38101)