حدیث نمبر: 39717
٣٩٧١٧ - حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن هشام عن أبيه أن النبي ﷺ اعتمر عام الفتح من الجعرانة، فلما فرغ من عمرته استخلف أبا بكر على مكة وأمره أن يعلم الناس المناسك، وأن يؤذن في الناس: "من حج العام فهو آمن، ولا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت (عريان) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو مکہ پر خلیفہ بنادیا اور انہیں یہ حکم دیا کہ لوگوں کو افعال حج کی تعلیم دیں۔ اور یہ کہ وہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردیں کہ جو شخص اس سال بیت اللہ کا حج کرے گا وہ امن پا جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کرسکے گا۔ اور نہ ہی بیت اللہ کا ننگا طواف کرے گا۔

حواشی
(١) في [ي]: (سلمان).
(٢) في [أ، ب]: (عريانًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عروة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39717، ترقيم محمد عوامة 38099)