٣٩٧١١ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: (حدثنا) (١) مكحول أن رسول اللَّه ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن (٢) (بالشرر يرمونه) (٣) فقال جبرائيل: تعوذ يا محمد، فتعوذ بهؤلاء الكلمات فدحروا عنه، ⦗٦٤⦘ فقال: "أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما نزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها، ومن شر (٤) (الليل) (٥) والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارق يطرق بخير يا رحمن" (٦).حضرت مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو جنات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شراروں کے ساتھ ہدف بنایا تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : اے محمد ! پناہ حاصل کیجئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کلمات کے ذریعہ سے پناہ پکڑی پس ان جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے آگے کوئی نیک و بد نہیں جاسکتا۔ ہر اس بُری چیز سے جو آسمان سے نازل ہو اور آسمان کی طرف اوپر چڑھے اور ہر اس شر سے جو زمین میں پھیلے اور ہر اس شر سے جو زمین سے نکلے اور رات، دن کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس رات کے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے۔ اے رحمن۔ “