٣٩٧١٠ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) همام قال: (حدثنا) (٢) قتادة عن أنس قال: أنزلت على النبي ﷺ: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ [الفتح: ١] (إلى) (٣) (آخر) (٤) الآية مرجعه من الحديبية، وأصحابه مخالطو الحزن (والكآبة) (٥)، (قال) (٦): "نزلت (علي) (٧) (آية) (٨) هي أحب إلي من الدنيا وما فيها جميعا"، فلما تلاها رسول اللَّه ﷺ قال رجل من القوم: هنيئا مريئا قد بين اللَّه ما يفعل بك، فماذا يفعل بنا؟ فأنزل اللَّه الآية التي بعدها: ﴿لِيُدْخِلَ (٩) الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [الفتح: ٥] حتى ختم الآية (١٠).حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب صلح حدیبیہ سے واپسی پر آیات {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آخر تک، نازل ہوئیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غم اور شکستگی کی ملی جلی حالت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ تو آپ کے ساتھ کیا جائے گا۔ آپ اس کو خوشگواری اور مزہ سے پائیں لیکن ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات پر اگلی آیت نازل فرمائی : تاکہ وہ مؤمن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ آخر آیت تک۔