٣٩٧٠٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن أبي سعيد الخدري عن رسول اللَّه ﷺ أنه قال: لما (نزلت) (١) هذه السورة: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [النصر: ١] قال: قرأها رسول اللَّه ﷺ (حتى ختمها) (٢) وقال: "الناس (حيز) (٣)، وأنا وأصحابى (حيز) (٤) "، وقال: "لا هجرة بعد الفتح، ولكن جهاد ونية"، فقال له مروان: كذبت وعنده زيد بن ثابت ورافع بن خديج وهما قاعدان (معه) (٥) على السرير، فقال أبو سعيد: لو شاء هذان لحدثاك، ولكن هذا يخاف أن تنزعه عن [(عرافة) (٦) قومه، وهذا (يخشى) (٧) أن تنزعه عن] (٨) الصدقة، فسكتا، فرفع مروان الدرة ليضربه، فلما رأيا ذلك قالا: صدق (٩).حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سورة اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح ۔ نازل ہوئی۔ مکمل تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ اور پھر ارشاد فرمایا۔ ایک جہت میں (بعد والے) لوگ ہیں اور ایک جہت میں میں اور میرے صحابہ (پہلے ایمان لانے والے) ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نبوت باقی ہے۔ مروان نے حضرت ابو سعید خدری سے کہا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ (اس وقت) مروان کے پاس زید بن ثابت اور رافع بن خدیج موجود تھے اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا : اگر یہ دونوں چاہتے تو یہ بھی تمہیں (یہ) حدیث بیان کرتے لیکن (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ تم اس کو اپنی قوم کی طرف سے نکال دو گے اور (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے تم اس کو صدقہ سے نکال دو گے۔ لیکن یہ دونوں حضرات خاموش رہے کہ اسی دوران مروان نے درہ بلند کیا تاکہ ابو سعید کو مارے۔ پس جب ان دونوں حضرات نے یہ دیکھا تو دونوں نے فرمایا۔ ابوسعید نے سچ بات بتائی ہے۔