٣٩٧٠١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن أبي هند عن أبي مرة مولى عقيل بن أبي طالب عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة (فر) (١) إلي رجلان من أحمائي من بني مخزوم، قالت: فخبأتهما في بيتي، فدخل علي أخي علي بن أبي طالب فقال: (لأقتلنهما) (٢)، قالت: فأغلقت الباب عليهما، ثم جئت رسول اللَّه ﷺ (بأعلى) (٣) مكة وهو يغتسل في (جفنة) (٤) إن فيها أثر العجين، وفاطمة ابنته تستره، فلما فرغ رسول اللَّه ﷺ من غسله أخذ ثوبا فتوشح به ثم صلى ثماني ركعات من الضحى، ثم أقبل فقال: "مرحبا وأهلا بأم هانئ، ما جاء بك؟ " (قالت) (٥): قلت: يا نبي اللَّه فر إلي رجلان من أحمائي، فدخل علي علي بن أبي طالب فزعم أنه قاتلهما، فقال: "لا، قد ⦗٦٠⦘ (أجرنا من أجرت) (٦) يا أم هانئ، وأمنا من أمنت" (٧).حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میرے سسرال بنو مخزوم میں سے دو آدمی میری طرف بھاگ کر آگئے۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ پس میں نے انہیں اپنے گھروں میں چھپا دیا۔ پھر میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے ہاں آئے اور کہنے لگے، میں ضرور بالضرور ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ میں نے ان دونوں آدمیوں کو (کمرہ میں داخل کر کے) دروازہ بند کردیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ کے بالائی مقام پر حاضر ہوئی تب جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹب میں غسل فرما رہے تھے۔ جس میں گوندھے آٹے کے اثرات تھے اور حضرت فاطمہ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پردہ کیے ہوئے تھی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے پکڑے اور زیب تن فرمائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا : ام ہانی ! مرحبا خوش آمدید۔ کس غرض سے آئی ہو۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے سسرالی رشتہ داروں میں سے دو بندے (پناہ کے لئے) میری طرف بھاگ کر آئے ہیں اور پھر علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب میرے پاس آگئے اور اب علی رضی اللہ عنہ کا ارادہ ان دونوں کو قتل کرنے کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ نہیں ! یقین کرو۔ اے ام ہانی ! جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی ا س کو پناہ دی اور جس کو تم نے امن دیا ہے اس کو ہم نے بھی امن دیا ہے۔