حدیث نمبر: 39697
٣٩٦٩٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن (١) ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذه (٢) (حرم) (٣) - (يعني مكة) (٤) - حرمها اللَّه يوم خلق السماوات والأرض، ووضع هذين (الأخشبين) (٥)، (لم) (٦) تحل لأحد قبلي ولا تحل لأحد بعدي، ولم تحل لي إلا ساعة من (النهار) (٧)، لا (يعضد) (٨) شوكها، ولا ينفر صيدها، ولا (يختلى) (٩) (خلاها) (١٠)، ولا (يرفع) (١١) لقطتها إلا (منشد) (١٢) "، فقال العباس: يا رسول اللَّه إن أهل مكة لا صبر لهم عن الأذخر لقينهم ولبنيانهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلا الإذخر" (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مقام حرم ہے یعنی مکہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا تھا اسی دن سے اس کو حرمت بخشی تھی۔ یہ زمین مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلا ل نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگی۔ اور میرے لئے بھی محض دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی ہے۔ اس کے کانٹے کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بدکایا جائے گا۔ اور اس کے گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کے گمشدہ مال کو اٹھایا جائے گا لیکن تعریف کرنے والے کو اٹھانا درست ہے۔ حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اہل مکہ کو اذخر گھاس سے رکنا مشکل ہے کیونکہ وہ اپنی بنیادوں اور لوہے کے کام میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذخر مستثنیٰ ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (طاوس عن).
(٢) في [جـ، ي]: زيادة (مكة).
(٣) في [ع]: (حرام)، وسقط من: [جـ].
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ب]: (الأخشين).
(٦) في [هـ]: (لا).
(٧) في [أ، ب]: (نهار)، وفي [أ]: (نها).
(٨) هكذا في: [هـ]، وفي بقية النسخ: (يحصد).
(٩) في [ع]: (يختلا).
(١٠) في [ع]: (خلاوها).
(١١) في [أ، ب، ق]: (ترفع).
(١٢) في [ع]: (المنشذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39697
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، أخرجه ابن جرير ١/ ٥٤٢، والدارقطني ٤/ ٢٣٥، والأزرقي ٢/ ١٢٦، والطحاوي ٢/ ٢٦٠، وورد من حديث مجاهد عن طاووس عن ابن عباس، أخرجه البخاري (١٥٨٧)، ومسلم (١٢٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39697، ترقيم محمد عوامة 38079)